English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

‘پاکستان کو کیوبا نہیں بنانا’ کیوبن سفیر نے احسن اقبال کے بیان کو توہین آمیز قرار دے دیا

القمر

پاکستان میں کیوبا کے سفیر زینر کارو نے وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال کے کیوبا کے حوالے سے تبصرے کو ’توہین آمیز‘ قرار دیا ہے۔

گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نہ پاکستان کو کیوبا بنانا چاہتے ہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔

احسن اقبال کے اس بیان پر رد عمل دیتے ہوئے پاکستان میں کیوبا کے سفیر زنیر کارو نے کہا کہ خوش قسمتی سے احسن اقبال کی طرف سے لاہور میں اپنی پریس کانفرنس میں کیوبا کا توہین آمیز ذکر پاکستانیوں کے کیوبا سے حقیقی احترام اور گہری محبت کی نمائندگی نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا کوئی تعلق ہے۔

کیوبن سفیر کے اس بیان پر جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ "عالی جا! ہم کیوبا کے لوگوں کے لیے گہرا احترام کرتے ہیں اور کیوبا کے ساتھ ہمارے گہرے پیار بھرے تعلقات ہیں۔ ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ پاکستان میں 2005 کے زلزلے کے بعد کیوبا کے ڈاکٹروں نے کس طرح بہادری کا کردار ادا کیا۔ میرے ریمارکس صرف خارجہ پالیسی کے تناظر میں تھے۔”

سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے احسن اقبال سے کیوبا کے متعلق بیان پر معافی کا مطالبہ کردیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے جاری کردہ ٹوئٹ پیغام میں سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے لکھا کہ احسن اقبال کا کیوبا سے متعلق تبصرہ قابدل مذمت ہے، موجودہ حکومت کو انہی وجوہات کی بنا پر امپورٹڈ حکومت کہتے ہیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ احسن اقبال کا مذکورہ بیان غلامانہ ذہنیت کا ایک اور عکس ہے، پاکستانی عوام کیوبا کی عظیم قوم کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ احسن اقبال سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنی حماقت پر معافی مانگیں۔

معروف محقق اور حقوق خلق پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عمار علی جان نے بھی احسن اقبال سے کیوبا کے متعلق بیان پر معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا مزاحمت اور یکجہتی کی علامت ہے۔ ملک میں سفارت خانہ نہ ہونے کے باوجود، کیوبا وہ پہلا ملک تھا جس نے 2005 میں زلزلے کے بعد پاکستان کو ڈاکٹروں کی پیشکش کی۔ پچھلے سال اس نے ہمیں مفت ویکسین کی پیشکش کی تھی۔

صحافیوں، اور ٹوئٹر کے صارفین کی جانب سے وفاقی وزیر کے تبصرے پر تنقید کرتے ہوئے سخت وقت میں کیوبا کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے