خرطوم (انٹرنیشنل ڈیسک) سوڈان کے جنگ زدہ علاقے دارفور میں عرب اور غیر عرب باشندوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے۔ انسانی حقوق کی مقامی تنظیم ’دی جنرل کوارڈینیشن فار ریفیوجیز اینڈ ڈسپلیسڈ ان دارفور‘ کے مطابق قبائلی عسکریت پسندوں نے دارفور کے مغربی حصے کے علاقے کرینیک پر بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کیا اور علاقے میں گھروں میں لوٹ مار کرکے انہیں آگ لگا دی۔ اس حملے سے قبل جمعہ کے روز اسی علاقے میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں 2قبائلی افراد مارے گئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے دارفور میں دوبارہ بین الاقوامی امن دستوں کی تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے ان دستوں کو جنوری 2020ء میں وہاں سے نکال لیا تھا۔اس سے قبل مارچ میں سوڈان کی ریاست جونگلی میں قبائلی جھڑپوں میں 14 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے۔ مقامی جنگجوؤں نے جونگلی ریاست کی ڈوک کاؤنٹی میں پینگونگ کوئی نامی مویشیوں کے کیمپ پر حملہ کیا۔ اس دوران ان کی کئی گھنٹے تک لڑائی ہوئی،جس کے بعد وہ 2ہزار سے زائد مویشیوں کو چرا لیا گیا تھا۔ عام طور پر یہ جھڑپیں ایتھوپیا سے متصل علاقوں میں ہوتی ہیں،جہاں دونوں طرف کے قبائل کے مسلح افراد جھڑپوں میں حصہ لیتے ہیں۔
