English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت: فیض کی نظمیں نصاب سے خارج،’عوام مخالف حکومت فیض کی شاعری برداشت نہیں کرسکتی’

القمر

اردو کے معروف شاعر فیض احمد فیض کی دو نظمیں بھارتی حکومت کے مرکزی تعلیمی ادارے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (سی بی ایس ای) کے دسویں جماعت کے نصاب سے خارج کرنے پر حکومت اور متعلقہ ادارے کو سیاست دانوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، دانشوروں، شعرا اور ادبا کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے۔

اس فیصلے کو حکومت کی تنگ نظری قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس سے دنیا میں ایک غلط پیغام گیا ہے۔ علمی حلقے اس فیصلے کی مذمت کر رہے اور تعلیمی نصاب کو بھی سیاست زدہ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔

البتہ سی بی ایس ای کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی ‘نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ’ (این سی ای آر ٹی) کی سفارش پر کی گئی ہے۔ اس نے ماضی میں بھی بعض اسباق ہٹائے تھے۔

سن 2020 میں بورڈ نے کہا تھا کہ وہ وفاقیت، شہریت، قومیت اور سیکولرزم کے اسباق کو گیارہویں جماعت کے پولیٹیکل سائنس کے نصاب میں شامل کرنے پر غور نہیں کرے گا۔ البتہ ایک تنازع کے بعد یہ اسباق شامل کیے گئے تھے۔

اس مرتبہ فیض کی جو دو نظمیں دسویں جماعت کے نصاب سے ہٹائی گئی ہیں وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے این سی ای آر ٹی کے سیگمنٹ ‘مذہب، فرقہ واریت اور سیاست: فرقہ واریت اور سیکولر اسٹیٹ’ کا حصہ رہی ہیں۔

اردو کی معروف ویب سائٹ’ ریختہ ڈاٹ او آر جی ‘کے مطابق ان نظموں کا عنوان آج بازار میں پابہ جولاں چلو’ اور ‘ڈھاکہ سے واپسی پر’ ہے۔

ان نظموں میں سے ایک کے چند اشعار کچھ اس طرح ہیں:

چشمِ نم جانِ شوریدہ کافی نہیں

تہمتِ عشقِ پوشیدہ کافی نہیں

آج بازار میں پا بجولاں چلو

دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو

خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو

راہ تکتا ہے سب شہرِ جاناں چلو

ریختہ ‘کے مطابق فیض نے یہ نظم اس وقت کہی تھی جب انہیں دانت میں درد کی شکایت پر ہتھکڑی لگا کر لاہور جیل سے دانتوں کے ایک ڈاکٹر کے پاس تانگے میں لے جایا جا رہا تھا۔ انہیں لوگوں نے پہچان لیا تھا اور بہت سے لوگ تانگے کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔

دوسری نظم کے چند اشعار کچھ یوں ہیں:

ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد

پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار

خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

دل تو چاہا پر شکستِ دل نے مہلت ہی نہ دی

کچھ گلے شکوے بھی کر لیتے مناجاتوں کے بعد

ریختہ کے مطابق فیض نے یہ نظم 1974 میں بنگلہ دیش سے واپس کی بعد کہی تھی۔

سی بی ایس ای نے ان نظموں کے علاوہ افرو ایشیائی خطے میں مسلم دورِ حکمرانی، مغل نظامِ عدل اور دیگر اسباق بھی نصاب سے باہر کر دیے ہیں۔ اس اقدام کی بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے اوربھارت کو مبینہ طور پر ہندوریاست بنانے کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایمنسٹی نے فیصلہ کم درجے کا قرار دے دیا

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا ‘ کے چیئرمین آکار پٹیل نے ایک ٹوئٹ میں فیصلے کو ایک کم درجے کا فیصلہ قرار دیا ہے جب کہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے سی بی ایس ای کے اس فیصلے کو تعلیمی تنوع کو کترنے والا قرار دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے