نیویارک: اقوام متحدہ کی ایک نئی قرارداد کے تحت اب ویٹو پاور کا استعمال کرنے پر ان ممالک کو وضاحت کرنی ہوگی کہ آخر کیسے اور کیوں ایسا کیا گیا۔
جنرل اسمبلی میں اس قرارداد کو تالیوں کی گونج کے ساتھ اتفاق رائے منظور کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے اس قرارداد کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کے استعمال کرنے پر انہیں جوابدہ بنانے کی جانب پہلا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
اس قرارداد سے پانچوں مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس اپنے ویٹو پاور سے تو محروم نہیں ہوں گے، تاہم پہلی بار جنرل اسمبلی میں اس بات پر بحث ہو سکے گی کہ ویٹو پاور کا استعمال آخر کس بنیاد پر اور کس مقصد کے لیے کیا گیا۔کسی بھی مسئلے پر ویٹو پاور کے استعمال کے 10 روز کے اندر جنرل اسمبلی میں اس صورت حال پر بحث کرنے کی ضرورت ہو گی کہ آخر کسی قرارداد کو روکنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور ویٹو پاور کا استعمال کرنے والے ملک کو اس کی وضاحت کرنی ہو گی۔
