سنگاپور: سنگاپور نے دماغی طور پر معذورناگیندرن دھرمالنگم کو بدھ کے روز پھانسی دے دی۔ انہیں بہت معمولی مقدار میں ہیروئن ملک میں اسمگل کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ناگیندرن دھرمالنگم کو43 گرام ہیروئن سنگاپور میں اسمگل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔
ان کی پھانسی کو رکوانے کے لیے دنیا بھر میں مہم چلائی گئی لیکن ناکام رہی۔ ان کو پھانسی کی سزا دینے کے فیصلے کی بڑے پیمانے پر نکتہ چینی بھی کی گئی تھی کیونکہ وہ ذہنی طورپر معذور بتائے گئے تھے کیونکہ ان کا آئی کیو لیول صرف 69 تھا۔چونتیس سالہ دھرمالنگم کے بھائی نوین کمار نے بتایا کہ پھانسی کی سزا پر عمل درآمد بدھ کے روز کیا گیا۔
ان کی لاش کو ملیشیا لے جایا جارہا ہے جہاں ایپوہ قصبے میں ان کی آخری رسومات اداکی جائیں گی۔سنگاپور حکومت نے کہا کہ اس نے اپنی سرحدوں پر یہ بات واضح کر رکھی ہے کہ منشیات کے اسمگلنگ جیسے جرائم کی سزا موت ہے۔ دھرما لنگم کو عدالت نے سن 2010 میں مجرم قرار دیتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔آخری لمحات میں ان کی والدہ نے ایک بار پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایالیکن سپریم کورٹ کے تین ججوں کے بنچ نے یہ اپیل مسترد کردی۔
عدالت نے کہا کہ کبھی نہ کبھی تو عدالت کو کوئی حکم دینا ہی ہوگا۔ عدالت نے تاہم دھرمالنگم کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرنے کی آخری خواہش مان لی۔دھرمالنگم نے عدالت سے درخواست کی میں اپنے آخری لمحات اپنے خاندان کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں تاکہ میں ان کا ہاتھ تھام سکوں۔
عدالت نے دھرمالنگم کی یہ درخواست مان لی اور انہیں اپنے کنبے کے ساتھ دو گھنٹے گزارنے کا موقع بھی دیا۔ اس دوران شیشے کی ایک دیوار میں بنی ہوئے ایک سوراخ سے وہ اپنے رشتہ داروں کا ہاتھ پکڑ کر روتے رہے۔
