اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیراطلاعات فواد چودھری نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز کی سماعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہے عدلیہ کی ریٹنگ دنیا میں 130 سے اوپر نہیں نیچے جائے گی۔اسلام آباد میں زلفی بخاری، عثمان ڈار اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنمائوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں فواد چودھری نے کہا کہ حکومت کا اب تک کا سب سے بڑا پالیسی فیصلہ یہ تھا کہ تقریبا پورا پاکستان مفت عمرہ کرنے چلا جائے گا لیکن عوامی دبائو کی وجہ سے یوٹرن لینا پڑا۔فواد چودھری نے کہا کہ ملک میں امن و امان نیچے جا رہا ہے اور حکومت پورے طور پر تنائو کا شکار ہے اور پوری طاقت اس بات پر ہے کہ حمزہ شہباز کسی طرح وزیراعلی بن جائے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مسئلہ شہباز شریف کو وزیراعظم یا حمزہ شہباز کو وزیراعلی بنانا نہیں ہے اور ہمیں فوری طور پر انتخابات کی طرف جانا چاہیے اور یہی پاکستان کے موجودہ بحران کا حل ہے۔انہوں نے کہا کہ ان سے آپ مستقل فیصلوں کی توقع نہیں کرسکتے ہیں، انہوں نے اب تک دو دفعہ بجلی کی قیمت بڑھا دی ہے۔سابق وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ آج عدالت میں دو مقدمات تھے، کل جج صاحب ہمت کریں، اگرچہ لوگوں کو شک ہے، مجھے امید ہے کہ آخر عدلیہ نے اپنا کردار ادا کرنا ہے، ایک کیس میں عدالت نے تاریخ دی کہ وزیراعظم کی منی لانڈرنگ کا کیس اگلی تاریخ میں سنیں گے جبکہ حمزہ شہباز کے کیس میں کہا گیا کہ حلف اٹھانا ضروری ہے۔عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ظاہر اس سے آپ کو 130 ریٹنگ ملے گی یا اس سے نیچے ہوگی آپ اوپر نہیں آسکتے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عدلیہ اور تمام پاکستان میں یہ احساس ہے کہ پاکستان اس طرح آگے نہیں چل سکتا ہے، پاکستان کو انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔فواد چودھری نے مریم اورنگ زیب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کونسلر کا الیکشن بھی نہیں لڑ سکتیں اور ان کو پالیسی سازی کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے، اس طرح پاکستان کی سیاست کو ان خواتین کے حوالے نہیں کیا جاسکتا ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو مبارک باد دینا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار بھٹو کا نواسہ جنرل ضیاالحق کے منجھلے بیٹے(بقول ان کے اپنے) کا وزیرخارجہ بن گیا ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ ضیاالحق 11 برسوں میں پوری کوشش کے باوجود پیپلزپارٹی کو ختم اور تباہ و برباد نہ کرسکے وہ آج آصف زرداری نے کروا دیا ہے اور پیپلزپارٹی اب اصل میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئی ہے۔
