اسلام آ باد: پی ٹی آئی کے منحرف اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا ہے کہ جمہوریت کی بات کرنے والوں کو پارٹی میں بھی جمہوریت بحال کرنا ہو گی۔
رمیش کمار نے الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے نوٹس ملا تھا، میرا سوال یہ تھا کیا یہ ریفرنس قابل سماعت ہے بھی یا نہیں؟ انہوں نے کہا کہ بیس کے بیس ریفرنس ایک ہی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، میں نے عمران خان اور اسد عمر کو شوکاز کا جواب بھی دیا۔
رمیش کمار نے کہا کہ ہمیں 31 مارچ کو گروپ سے ریمو کیا گیا، ہم نے ووٹنگ میں حصہ بھی نہیں لیا ہے، تریسٹھ اے کی بات کی جارہی ہے لیکن اسکا کوئی ثبوت نہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سب کو ایک جیسا نوٹس بھیجوا دیا جائے، کمیشن نے ہماری بات بھی سنی ہے اور کہا ہے 6 مئی کو آپکو بھی سنیں گے۔
منحرف رکن نے کہا کہ میڈیا کے اوپر آج بھی کہتا ہوں ہماری حکومت کی پالیساں غلط تھی، ہماری صورتحال سری لنکا سے کچھ مختلف نہیں ہے، سری لنکا میں اسطرح عارضی طور پر قرضہ لے کر معاملات چلائے جارہے تھے، ڈیزل کا آج شارٹ فال ہورہا ہے دو ماہ پہلے خان صاحب کو خود لکھا تھا، مگر کوئی میٹنگ نہ ہوئی کوئی پالیسی نہ سامنے آئی، ایک طرف ہم آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے کررہے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام پر ہم کوئی سیاست نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی خان صاحب کو یاد دلاتے ہیں ہماری کیا کیا غلطیاں تھیں، مسلم لیگ ن میں جب تک تھے ان پر بھی تنقید کرتا تھا،جمہوریت کی بات کرنے والوں کو پارٹی میں بھی جہموریت بحال کرنا ہو گی، اگر پارٹی استعفی دے گی تو ہم بھی ساتھ ہیں لیکن ہم پارٹی کے غلط فیصلوں کیساتھ نہیں کھڑے ہو سکتے۔
رمیش کمار نے مزید کہا کہ لیٹر والا ڈپلومیٹک بلنڈر کیا گیا، کیا خان صاحب نے سوچا یہ کیا کررہے ہیں؟ شہباز گل والے معاملہ پر خان صاحب کو خط لکھا گیا، کیا خان صاحب نے کوئی ایکشن لیا؟
