English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان ڈائری

القمر

دنیا بھر میں تین مئ کو یوم صحافت منایا جاتا ہے یہ ایک پرخطر شعبہ ہے اور اس میں کام کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں تنخواہ کم ، ڈیوٹی کے کوئی اوقات نہیں اور زندگی بھی خطرے میں پڑجاتی ہے ۔ صحافی نا صرف فیلڈ میں بلکے سوشل میڈیا پر بھی دھمکیوں کا سامنا کرتے ہیں اور ہراسانی کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں انکو مارپیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک ان کو قتل کردیا جاتا ہے ۔ اس حوالے سے ملک بھر میں صوبہ سندھ میں حالات بہت خراب ہیں۔ اس کے ساتھ درالحکومت میں صحافیوں پرتشدد دیکھا گیااور یہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔

پاکستان میں صحافت کرنا آسان نہیں پہلے صرف اخبارات اور پی ٹی وی ہوتا تھا اس کے بعد الیکٹرانک میڈیا میں نئے چیینلز آئے تو صحافت کی ہیت ہی بدل گئ۔ صحافیوں کا قلم مزید آزاد ہوگیا اور سوشل میڈیا آنےسے انکے پاس بولنے لکھنے کی آزادی بڑھ گئ۔ جو بات وہ اپنے ادارے میں نہیں بول پاتے وہ سوشل میڈیا پر بول دیتے ہیں اور لکھ دیتے ہیں۔ بلاگ اور وی لاگ کرکے حقائق عوام کے سامنے لاتے ہیں۔اس کے ساتھ فیس بک اور ٹویٹر کا بھی استعمال ہوتا ہے۔خبروں کی نشرواشاعت کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

بہت بار ادارتی پالیسی کا اطلاق سوشل میڈیا جرنلزم پر نہیں ہوتا اس سے بھی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اداروں میں تو قواعد ضوابط موجود ہیں لیکن سوشل میڈیا پر کوئی چیک نہیں۔ پاکستان میں صحافی معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور انکو تنخواہیں نہیں ملتی۔ انکو لائف انشورنس اور چھٹیاں نہیں ملتی۔ اگر وہ بیمار ہوجائیں تو انکو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے۔اس لئے بہت سے لوگ صحافت چھوڑ گئے یا سوشل میڈیا پر آگئے ہیں۔

ماضی قریب میں سنسرشپ زیادہ بڑھ گئ اور صحافیوں پر حملوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کہتی ہے کہ اب تک پاکستان میں ۶۲ صحافیوں کو قتل کیا گیا جن میں دو خواتین صحافی بھی شامل ہیںْ۔ ۔۔کسی صحافی کو گولی مار دی گئ تو کسی کو اغوا کرکے قتل کیا گیا تو کوئی خود کش حملے میں چل بسا ۔ سلیم شہزاد، مشتاق خند،ثاقب خان، عبد الحق بلوچ، رزاق گل ،حاجی زئی،ملک ممتاز، محمود آفریدی، مرزا اقبال ، سیف الرحمان، اسلم درانی، ایوب خٹک ،عمران شیخ،مکرم خان ، عارف خان یا مصری خان، ولی خان بابر ہو یا عزیز میمن، موسی خیل ہوں یا چشتی مجاہد، ہدایت اللہ خان ہوں یا عامر نواب، راجہ اسد حمید ، فضل وہاب ہوں یا صلاح الدین، غلام رسول ہوں یا عبد الرزاق، محمد ابراہیم، ساجد تنولی ہوں یا شاہد سومرو یا لالہ حمید بلوچ ہوں یہ تمام سچ کی راہ میں شہید ہوئے۔ صحافی عروج اقبال اور شاہنہ شاہین دونوں کو انکے شوہروں نےقتل کیا ۔ اب ناظم جوکھیو کا کیس سب کے سامنے ہیں قاتل کو سرکاری پروٹوکول مل رہا ہے اور ناظم کی بیوہ نے سب قاتلوں کو دباو میں معاف کردیا۔

بلوچستان قبائلی علاقے صحافیوں کے لئے ہمیشہ مشکل ثابت ہوئے لیکن سندھ میں حالیہ سالوں میں تین صحافی قتل ہوئے۔اس کے ساتھ جتنے حملے تشدد کے واقعات حالیہ سالوں میں اسلام آباد میں ہوئے انکی مثال نہیں ملتی۔ صحافیوں پر گولیاں چلائی گئ انکو مارا پیٹا گیا اور ہراساں کیا گیا۔ کتنے صحافیوں کی نوکریاں ختم ہوگئیں ان پر غیر اعلانیہ پابندی لگ گئ۔۔اب یہ صورتحال ہے صحافیوں کے خلاف سوشل میڈیا پر کمپئن چلائی جارہی ہیں جن میں خواتین صحافیوں کو کردار کشی سب سے زیادہ ہورہی ہے۔

 سوشل میڈیا پر خواتین صحافیوں اور اینکرز کو ریپ تیزاب گردی کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ۔خواتین صحافیوں کی تصاویر فوٹوشاپ کی جاتی ہیں اور انکے فون نمبر گھر کے ایڈریس سوشل میڈیا پر پھیلا دئے جاتے ہیں۔صحافت کرنا ، صحافی ہونا اور فیلڈ میں کام کرنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جارہا ہے۔

خبر کی نشر و اشاعت میں خود صحافی خبر بن جاتے ہیں۔یہاں حکومت پاکستان کا فرض بنتا ہے کی وہ انسانی حقوق کے مسلمہ بین الاقوامی معیار کے مطابق صحافیوں کو حقوق دے اور ان پر ہونے والے ظلم و تشدد پر کی جامع تحقیقات کروائے اور مجرمان کو کڑی سزا دے۔ اس کے ساتھ ان کے معاشی حقوق کے حوالے سے میڈیا مالکان کوپابندکرے کہ وہ ان کی تںخواہیں وقت پر دیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے