English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

خط کا قصہ کیسے نمٹے گا؟

القمر
حکومت نے عمران خان کے بیرونی سازش کے الزام پر انکوائری کمیشن بنانے کا اعلان کردیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیرون ملک سازش نہیں ہوئی، جب اپنے اتحادی چھوڑ جائیں تب آپ کو یاد آیا کہ بیرونی سازش ہوئی؟۔مریم اورنگزیب نے زور دیا کہ جلسوں کا شیڈول بھی اپنی بے نامی فرح کو بچانے کا بہانہ ہے، عمران خان درحقیقت فرح گوگی کو بچاؤ کی تحریک چلا رہےہیں۔مریم اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس صبح شام کے تماشے پر غیرجانبدار انکوائری کمیشن بنایا جائے، کمیشن آزاد ہوگا، تمام انکوائری عوام کے سامنے کی جائے گی، الزام تراشیاں فرح کو بچانے اور ملک کو نقصان پہنچانے کیلئے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کے ہمراہ پریس کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت کی مبینہ بیرونی سازش کی تحقیقات کے حوالے سے تمام تحقیقاتی کمیشن مسترد کرچکے ہیں البتہ صرف آزادعدلیہ کے تحت کمیشن ماننے کو تیار ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اڈے دینے سےانکار پرعمران خان کےخلاف سازش شروع ہوئی، سازش کے تحت پاکستان پربیرونی حکومت مسلط کی گئی، جلد اسلام آباد مارچ کی کال دی جائے گی اور پھر جو کام عدالتوں نے نہیں کیا وہ عوام کریں گے۔ حکومت کو جان لینا چاہیے کہ سازش کا نعرہ اب عمران خان کا سیاسی سلوگن ہے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے فوری اقدام کی ضرورت ہے تاکہ اس بے بنیاد نعرے کے غبارے سے ہو انکل سکے۔ حکومت کو معلوم ہو کہ سازش ہوئی یا نہیں لیکن یہ نعرہ اب خوب بک رہا ہے۔ حکومت کو یہ رجحان تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں اس وقت سیاسی رائے اس حد تک تقسیم ہے کہ حکومتی ترجمان کا یہ دعویٰ قابل عمل دکھائی نہیں دیتا کہ کوئی ایسا شخص تلاش کیا جاسکتا ہے جس کی غیر جانبداری پر حکومت اور تحریک انصاف یکساں طور سے متفق ہو سکیں۔ اس ایک نکتہ پر ہی بنیادی اختلاف موجود ہے کہ امریکہ میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید کی امریکی انڈر سیکرٹری ڈونلڈ لو کے ساتھ ہونے والے والی ملاقات کے بعد بھیجے گئے مراسلے میں کسی سازش کی خبر دی گئی تھی یا امریکی سفارت کار کی غیر محتاط گفتگو کا ذکر تھا جسے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت تصور کیا گیا۔ عمران خان پوری شدت سے یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ اس خط سے غیر ملکی سازش کا انکشاف ہوا تھا۔ اسی سازش کے ذریعے اپوزیشن لیڈروں کو ساتھ ملا کر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی اور منظور بھی کروا لی گئی۔ اس کے برعکس حکومت اور سرکاری اداروں نے اس رائے کو مسترد کیا ہے۔
قومی سلامتی کمیٹی نے عمران خان کی وزارت عظمی کے آخری دنوں میں پہلی بار اس سفارتی مراسلہ پر غور کیا تھا۔ 31 مارچ کو منعقد ہونے والے اس اجلاس کے اعلامیہ میں ’ملکی معاملات میں مداخلت‘ پر امریکہ کو احتجاجی مراسلہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ عمران خان اس بیان کو اپنے دعوے کی تائید کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کی حکومت کے خاتمے اور شہباز شریف کی سربراہی میں نئی حکومت قائم ہونے کے بعد آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے اس تاثر کو مسترد کیا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے اس مراسلہ کی بنیاد پر حکومت کے خلاف کسی سازش کا ذکر کیا تھا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت چاہے تو سلامتی کمیٹی کے اس اجلاس کی روداد عام ملاحظے کے لئے فراہم کردی جائے تاکہ عوام یہ جان سکیں کہ اس اجلاس میں کیا بات ہوئی تھی۔ عام طور سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ عمران خان کی سربراہی میں منعقد ہونے والے سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں حکومتی ارکان عسکری قیادت کو اس نکتہ پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ مذکورہ خط درحقیقت سازش کی خبر دیتا ہے، اس لئے اسے اسی طرح تسلیم کیا جائے۔ تاہم عسکری قیادت نے انٹیلی جنس رپورٹس کے علاوہ اس خط کے متن کو سازش کی اطلاع کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ حکومت اور عسکری قیادت میں اس اختلاف کی پردہ پوشی کے لئے امریکہ سے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے پر احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔
تحریک انصاف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اس اعلامیہ کو بھی اپنے موقف کی تائید قرار دیا اور اپوزیشن کی عدم اعتماد کو بدستور سازش اور بیرونی دولت سے ارکان اسمبلی خریدنے کی کوشش کہا جاتا رہا۔ بعد کے دنوں میں آئی ایس پی آر نے واضح طور سے سازشی تصور کی تردید کی تو تحریک انصاف نے مداخلت اور سازش کے مطالب کو خلط ملط کر کے یہ دعویٰ کرنا شروع کیا کہ یہ درحقیقت سازش ہی تھی کیوں کہ سازش کے بغیر مداخلت نہیں ہو سکتی۔ اسی پس منظر میں شہباز شریف کی حکومت نے اپریل کے آخر میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایک بار پھر اس مراسلہ پر غور کیا۔ اس اجلاس میں سفیر اسد مجید بھی شریک ہوئے جنہوں نے مذکورہ خط تحریر کیا تھا۔ 22 اپریل کو منعقد ہونے والے اس اجلاس کے اعلامیہ میں آئی ایس پی آر کے موقف کی تائید میں ایک بار پھر واضح کیا گیا کہ پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے لئے کوئی سازش نہیں کی گئی۔ تاہم تحریک انصاف نے حسب سابق اس وضاحت کو ماننے سے انکار کر دیا۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے ہمدرد یہ ٹرینڈ چلاتے رہے کہ سفیر اسد مجید نے سلامتی کمیٹی کو سازش کے بارے میں مطلع کر دیا اور وہ اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
حکومت نے تحریک انصاف اور عمران خان کے شدید دباؤ کی وجہ سے ہی اب سفارتی مراسلہ کی تحقیقات کے لئے کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تیزی سے تبدیل ہوتی سیاسی صورت حال میں یہ فیصلہ بہت تاخیر سے کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کسی بھی صورت کسی حکومتی کمیشن کو تسلیم نہیں کرے گی کیوں کہ اس طرح اس کے سیاسی نعرے کی بنیاد ختم ہو جائے گی۔
جمعتہ المبارک، 6 مئی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

 

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے