English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تجزیہ 36

القمر

نئی سرد جنگ   میں عظیم طاقت کی جنگ کے دورا ن  مشرق وسطی کے ممالک کے اندازوں کے مطابق  روس ۔ یوکیرین جنگ   امریکہ کو کافی زیادہ مصروف کیے ہوئے ہے اور اس بنا پر  مشرق وسطی کے  ہنگامی سیکیورٹی  مسائل  کو  امریکہ  زیادہ اہمیت نہیں  دے رہا۔

سیتا تحقیقاتی  ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر مراد یشل طاش کا مندرجہ بالا  موضوع پر جائزہ ۔۔۔۔

اسرائیل اور خلیج کے بعض ممالک کو خدشہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ ویانا میں ایران کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات میں روس یوکرین جنگ کو طول دینے کی وجہ سے تہران کو اہم سطح کی مراعات  دے گی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ اگر ایران 2015 کے جوہری معاہدے کے تابع ہونا قبول کرتا ہے، تو واشنگٹن ایران کی میزائل صلاحیتوں کو محدود کرنے کی اپنی درخواست واپس لے لے گا اور خطے میں تہران کے مقامی ملیشیاؤں کے اثر و رسوخ اور موجودگی کو نظر انداز کر دے گا۔ درحقیقت، واشنگٹن میں زیر بحث جوہری معاہدے کی تجدید کے سلسلے میں ایرانی پاسداران انقلاب کو امریکی دہشت گردوں کی فہرست سے نکالے جانے کے امکان کو سیکورٹی کے ایک ایسے مسئلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جسے مذکورہ ممالک کے لیے قبول کرنا مشکل ہے۔

خلیجی ممالک بالخصوص حالیہ برسوں میں امریکہ کے رویے سے مایوس ہوئے ہیں۔ واشنگٹن کی ایشیا کی طرف رجحان کی پالیسی خطے کی اہمیت میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح، ایسا لگتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے خلاف راکٹ حملوں میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ لہٰذا خلیجی ممالک نے امریکہ کے علاوہ بہت سے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو متنوع بنانے کا رجحان رکھا ہے، اوریہ  چین اور روس جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ، فوجی سازوسامان کے حصو ل کے لیے معاہدے بھی کرنے  لگے ہیں۔

اگرچہ امریکہ خطے کے ممالک کی ان نئی  پالیسیوں  سے خوش دکھائی نہیں دیتا  لیکن اس نے اس صورتحال کو پلٹنے کے لیے  تا حال  کوئی سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ تاہم مستقبل میں  غیر متوقع طور پر واشنگٹن انتظامیہ خلیج، اسرائیل اور شمالی افریقی ممالک کے درمیان تال میل کے عمل میں شامل ہو سکتی ہے۔ واشنگٹن اپنی عظیم طاقت کی دشمنی میں مشرق وسطیٰ کے خطے میں اس جھرمٹ کو ٹرمپ کارڈ میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ اس  سلسلے میں  موضوع کی بنیاد پر علاقائی تعاون کے لیے ایک نئی زمین  منظر عام پر آسکتی ہے۔

اس وقت متحدہ عرب امارات، مصر، سعودی عرب، اردن، مراکش، بحرین، عراق اور اسرائیل ان ممالک میں شامل ہیں جو مشرق وسطیٰ کے خطے میں مختلف  اجلاس کے ذریعے  تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ یہ ترکی کے مفاد میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مقاصد سے ہم آہنگ حالات میں ان کثیر جہتی اقدامات میں شامل ہو۔ اگر انقرہ مختلف مسائل پر تعاون کے ان متعدد اقدامات میں حصہ لیتا ہے، تو مستقبل میں مذاکرات ختم ہونے پر خطے میں ایران یا اس کی ملیشیا قوتوں  کا بڑھتا ہوا اثر بالواسطہ  طور پر متوازن ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں  ترکی خلیجی خطے میں تجارتی جیت کی منطق کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس وجہ سے ان اقدامات کے مزید گہرے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انقرہ توانائی اور سیاحت جیسے شعبوں میں خطے کے ممالک کے ساتھ نئی شراکت داری قائم کرے گا۔ اس طرح، اگر امریکہ ایک دن مشرقی بحیرہ روم اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں نئی ​​سرد جنگ کی وجہ سے واشنگٹن کی بنیاد پر اتحاد کے منشور کو لوٹ آتا ہے، تو مختلف مسائل پر خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس میدان میں ترکی کے مساوات سے باہر رہنے کا امکان ختم ہو جائے گا۔

آئندہ کے ایام میں ترکی مشرق وسطی  میں  حالات کے معمول پر آنے کے نام پر نئے اقدامات اٹھا سکتا ہے  اور  یہ چیز ترکی کو یوکیرین بحران کے  دوران بعض مفادات اپنے  نام کرنے  میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے