میانوالی/اسلام آباد(صباح نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم تیار رہے،20 مئی کے بعد کسی بھی دن اسلام آباد مارچ کی کال دوں گا،ہم نئے انتخابات کا مطالبہ لے کر عوام کے سمندر کے ساتھ اسلام آباد پہنچیں گے،اگرروکا گیا یا ایف آئی آر کاٹی گئی تو حالات کے ذمے دار شہباز شریف ہوں گے۔میانوالی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار پھر امپورٹڈ حکومت نامنظور کا نعرہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہم چوروں اور مافیا کے لوگوں کے اقتدار کو نہیں مانتے، شہباز شریف کا بیٹا حمزہ وزیراعلیٰ پنجاب اور زرداری کا بیٹا وزیر خارجہ بن گیا ہے، امپورٹڈ حکومت کے خلاف اسلام آباد میں عوام کا سمندر آنے والا ہے جو ڈاکوؤں کو اقتدار سے ہٹائے گا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ یہ کہتے ہیں مدینہ واقعہ میں نے کرایا، دنیا میں کہیں بھی چلے جاؤ آپ کوغدار اور چوروں کی آوازوں سے پاکستانی مخاطب کریں گے۔عمران خان نے شہباز گل پر ہونے والے حملے کی ذمے داری وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے کئی لوگوں کو قتل کرایا۔عمران خان نے کہا کہ سازش سے ڈاکوؤں کو حکومت میں لانے والے سمجھ رہے ہیں کہ قوم خوفزدہ ہوجائے گی مگر ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے اور قوم تیاری کررہی ہے، میڈیا کنٹرول کرنے سے کچھ نہیں ہوگا عوام کے جذبات ہیں جنہیں روکنا بہت مشکل ہے۔پی ٹی آئی سربراہ نے کارکنان کو ہدایت کی کہ اگر یہ لوٹے کبھی آپ کے پاس آئیں تو آپ کو ان کا بندوبست کرنا ہے، انہوں نے آئین، وطن اور اپنے ووٹرز سے غداری کی، آپ لوگوں کو انہیں بتانا ہے تاکہ یہ آئندہ ایسا کوئی بھی قدم نہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب عدالتیں رات میں کھل سکتیں ہیں تو ان لوٹوں کے خلاف فیصلہ کیوں نہیں دے سکتیں۔عمران خان کا کہنا تھاکہ قوم کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ چوروں کے ساتھ ہے یا ان کے خلاف جہاد کرنے والوں کے ساتھ ہے، ہماری تحریک اور کاوش دراصل کرپٹ اور لٹیروں کے خلاف جہاد ہے، جس میں سب کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے تاکہ ہم حقیقی آزادی حاصل کرسکیں۔علاوہ ازیں عمران خان نے سوشل میڈیا پر پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گرانے کی سازش کاجولائی میں پتاچل گیااس وجہ سے ڈی جی آئی ایس آئی نہیں بدلنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفادات پر سمجھوتا کیے بغیر امریکا سے دوستی چاہتا ہوں، میرا جرم آزاد خارجہ پالیسی تھی۔ان کا کہنا تھاکہ میرے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی کہ پاکستان میں موجود میرجعفر و میرصادق نے ان کا ساتھ دیا، ہمیشہ یقین رکھتا ہوں کہ میرا ملک مضبوط، آزاد ہے اور وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے گا۔ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ جہانگیر ترین اور علیم خان نے پارٹی کی کامیابی کے لیے بہت محنت کی لیکن ان کے آئیڈیلز وہ نہیں تھے جو میرے تھے، ان کا اقتدار میں آنے کا کچھ اور مقصد تھا، اسی لیے آج وہ چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کا مقصد اقتدار میں آکر فائدہ اٹھانا تھا۔عمران خان نے زور دیا کہ اب جس کو ٹکٹ دوں گا اس سے حلف لوں گا کہ اگر کاروبار کرنا ہے تو اقتدار میں نہ آئیں، یہ نہ سمجھنا میں آپ کے کاروبار کو غیرقانونی فائدہ پہنچاؤں گا۔انہوں نے بتایا کہ چینی مہنگی ہوئی تو شوگر مافیا کیخلاف کارروائی پر جہانگیر ترین سے اختلافات ہوئے، علیم خان نے راوی میں 300 ایکڑ زمین لے لی جسے وہ قانونی کرانا چاہتے تھے ، ان کے خلاف نیب میں بھی کیسز تھے، وہ مجھ سے چاہتے تھے جو کام نواز شریف اور زرداری کرتے تھے میں بھی وہی کروں یعنی غلط کام کو جائز کرنا، اس پر مجھ سے ان کے اختلافات ہوئے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ایف آئی اے نے شہباز شریف کے نوکروں کے نام پر 16 ارب روپے پکڑا لیکن ہم اپنے ساڑھے 3سال کی حکومت میں اسے سزا نہ دلواسکے، کبھی اس کی کمر میں درد ہوتا تو کبھی بنچ ٹوٹ جاتا، ہمارا نظام انصاف اسے پکڑتا ہی نہ تھا، اداروں میں مجرم کو پکڑنے کی صلاحیت اور خواہش ہی نہیں ہے، اداروں میں کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے لوگ بیٹھے ہیں، ہمیں کوشش کرنی ہے کہ اداروں پر عوام کا دباؤ آئے کہ ان مجرموں کو پکڑیں، اب انہیں این آر او ٹو مل گیا۔سابق وزیراعظم کے بقول جب تک مجھے صحیح معنوں میں بھاری اکثریت نہیں ملے گی میں اقتدار میں آنا ہی نہیں چاہتا، ہمارے حکومت میں ہاتھ بندھے تھے، ہم سینیٹ میں قانون سازی ہی نہیں کرپاتے تھے، سیمنٹ، شوگر، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے کارٹلز بنے تھے، 8 مسابقتی اداروں پر 11 سال سے 800 اسٹے آرڈرز تھے، 250 ارب روپے پھنسے تھے، اب باری ملے تو اکثریت سے ملے تاکہ مافیا کے خلاف کارروائی کرسکوں۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں بہت کمزور حکومت ملی تھی، اپنی پارلیمانی پارٹی کو بھی اور اتحادیوں کو بھی ساتھ رکھو، وہ ناراض ہوجاتے تھے، اپوزیشن بلیک میل کرتی تھی، اگلی بار ایسی حکومت ملنے سے بہتر ہے ہم اپوزیشن میں بیٹھیں۔جنرل فیض حمید سے متعلق سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ مجھے جولائی میں ہی پتا چل گیا تھا کہ ن لیگ نے حکومت گرانے کا پلان بنایا ہوا ہے، اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارا ڈی جی آئی ایس آئی تبدیل ہو ، مشکل وقت میں اپنے انٹیلی جنس چیف کو نہیں بدلتے کیونکہ وہ حکومت کی آنکھ اور کان ہوتا ہے،یہ تاثر غلط ہے کہ میں جنرل فیض کو آرمی چیف بنانا چاہتا تھا، میرے ذہن میں کبھی نہیں تھا کہ اپنا آرمی چیف لانا ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی امریکا مخالف پالیسی نہیں اپنائی، بھارت روس سے سستا تیل خرید سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں، روس سے تیل 30 فیصد سستا مل رہا تھا، 20 لاکھ ٹن سستی گندم مل رہی تھی، تو ہمیں کہا گیا یہ نہ کرو، میری خارجہ پالیسی بالکل واضح تھی، ہمارے ادارے کہتے ہیں ہم نیوٹرل ہیں، اللہ نے کسی کو نیوٹرل کی اجازت نہیں دی، آپ حق کے ساتھ ہیں یا باطل کے ساتھ، نیوٹرل ہونے کا مطلب ہے آپ باطل کے ساتھ ہیں، ڈاکو اوپر آکر بیٹھ گئے اور یہ کہتے ہیں ہم نیوٹرل ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے ہٹانے پر انہیں توقع نہیں تھی عوام کا اتنا شدید ردعمل آئے گا، اداروں کے اندر لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوگئے، اس وقت اداروں کی فیملیز ہمارے ساتھ کھڑی ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام میرے ساتھ نکل پڑے ہیں، اداروں میں بھی انسان ہوتے ہیں، وہ عوام کو نہیں روک سکتے اور نہ ہی وہ روکنا چاہیں گے کیونکہ اداروں کو بھی اندر سے دباؤ کا سامنا ہوگا، اس عوامی لہر کو کوئی نہیں روک سکتا۔پی ٹی آئی چیئرمین کے مطابقجب تک میڈیا، ٹی وی ، فلموں کو اپنی ثقافت و دین سے ہم آہنگ نہیں کریں گے، ہم بالی ووڈ ہالی ووڈ میں پھنسے رہیں گے، بالی ووڈ ہالی ووڈ نے خود ان کے اپنے کلچر کو تباہ کردیا، خاندانی نظام ٹوٹ گیا، امت مسلمہ میں خاندانی نظام ہی تو سلامت بچا ہے، میڈیا اور اسمارٹ فونز پر جتنی فحاشی لائیں گے اس سے براہ راست خاندانی نظام کو نقصان ہوگا، اسی کا نتیجہ ہے پاکستان میں خواتین اور بچوں سے زیادتی کے جرائم تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ پردہ ہے ہی خاندانی نظام کو بچانے کے لیے، ہالی ووڈ میں شادی کی اوسط مدت ڈھائی سال ہے کیونکہ اس طرز زندگی میں خاندانی نظام نہیں چلتا، ارطغرل لانے کا مقصد ہی لوگوں کو متبادل دینا تھا، جس میں ہالی ووڈ بالی ووڈ کا گند نہیں۔
