English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کالعدم بلوچ طلبہ تنظیم ‘بی ایس او آزاد’ سیکیورٹی فورسز کے ریڈارپر

القمر

اشرف بلوچ جامعہ کراچی میں شعبہ سوشیالوجی میں ایم فل کے طالبِ علم ہیں ۔ وہ سیاسی طور پربلوچ طلبہ کی تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کے اس دھڑے کے سینئر وائس چیئرمین ہیں جوسرداراختر مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی سے وابستہ ہے۔

اشرف بلوچ کا کہناہے کہ 29 اپریل کو سیکیورٹی اہلکاروں نے کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ان کے فلیٹ پرچھاپہ مارا۔وہ چونکہ عید منانے کے لیے اپنے آبائی ضلع گئے ہوئے تھے۔ان کے بقول سیکیورٹی اہلکار ان کی اصلی تعلیمی اسناد سمیت مختلف اہم کاغذات اپنے ساتھ لے گئے۔

اشرف بلوچ کے فلیٹ پر چھاپہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان کارروائیوں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جن میں کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

چھبیس اپریل کو جامعہ کراچی میں شاری بلوچ نامی خاتون کے خود کش حملےمیں تین چینی اساتذہ سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔بلوچستان میں فعال کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جس دھڑے نےاس حملے کی ذمہ داری قبول کی اس کے سربراہ بشیر زیب ہیں۔اس دھڑے کے مطابق اس کی ذیلی تنظیم ‘مجید بریگیڈ’ نے 26 اپریل کو کراچی یونیورسٹی کے احاطے میں چینی زبان کے مرکز کنفیوشس سینٹر کے قریب حملہ کرایا۔

البتہ وائس آف امریکہ کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اوربلوچ طلبہ سے بات چیت سے معلوم ہوا کہ سیکیورٹی اداروں نے ‘بی ایل اے’ کو افرادی قوت فراہم کرنے کے الزام میں کالعدم طلبہ تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے خلاف ازسر نو کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیاہے۔







No media source currently available

سال 2022 کے آغاز سے ہی پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کالعدم بلوچ علیحدگی پسندتنظیموں کے حملوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جس میں سیکیورٹی فورسز سمیت چین کے مفادات کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جارہاہے۔

دو فروری کو ‘مجید بریگیڈ’ کے شدت پسندوں نے بلوچستان کے سرحدی شہروں پنجگور اورنوشکی میں سیکیورٹی فورسز کے کیمپوں پر حملے کیے تھے جن میں ایک فوجی افسر سمیت سات اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔افواجِ پاکستان کے ترجمان ادارے (آئی ایس پی آر) نے ان کارروائیوں کے دوران 13 حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

پاکستان بالخصوص بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے حملوں میں تیزی کے اسباب جاننے کے لیے وائس آف امریکہ نے سیکیورٹی امور کے ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں کےافسران، بلوچستان کے سیاسی تجزیہ کاروں، طلبہ اور بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کے معاملات سے باخبر مقامی صحافیوں سے بات کی ہے۔

ان کے مطابق علیحدگی پسند تنظیموں کے حملوں میں تیزی کی کئی وجوہات ہیں مگر ایک وجہ تعلیمی اداروں میں فعال بلوچ طلبہ کی پرانی طلبہ تنظیم ‘بی ایس او آزاد’ کی فعالیت ہے جسے حکومتِ پاکستان نے 2013 میں کالعدم قرار دیا تھا۔

بلوچستان میں فعال دو اہم علیحدگی پسند تنظیمیں ‘بی ایل اے’ کے ایک دھڑے کے سربراہ بشیر زیب اور’بلوچ لبریشن فرنٹ’ کے سربراہ اللہ نذر بلوچ زمانہ طالبِ علمی میں بی ایس او آزاد کے چیئرمین رہے ہیں جب کہ حال ہی میں تشکیل پانے والی نئی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ‘بلوچ نیشنلسٹ آرمی ‘کے سربراہ گلزار امام بھی بی ایس او آزاد سے وابستہ رہے ہیں۔

چھبیس اپریل کو کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کرنے والی خاتون شاری بلوچ اوران کے شوہر ڈاکٹر ہبتین بشیر بلوچ بھی زمانہ طالبِ علمی میں بی ایس او آزاد سے وابستہ رہے ہیں۔



چھبیس اپریل کے حملے کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں، بالخصوص کراچی، اسلام آباد، لاہور، اوربلوچستان کے مختلف قصبوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متعدد طلبہ اورنوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جن کی گرفتاری ظاہر نہیں کی جا رہی۔

بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کے معاملات سے باخبر سیاسی کارکنوں اورقانون نافذ کرنے والے ادارے اسے ‘بی ایس او آزاد’ کے خلاف کریک ڈاؤن کا حصہ قراردے رہے ہیں جو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد زیرِ زمین تنظیم کے طورپر تعلیمی اداروں میں فعال ہے۔

البتہ بلوچ طلبہ کا الزام ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بی ایس او کے متعدد دھڑوں میں تفریق نہ کیے جانے کے سبب بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی سے وابستہ بی ایس او کے کارکنوں کو آزاد دھڑے کے نام پرہراساں کر رہے ہیں۔

اشرف بلوچ کا کہناہے کہ وہ جس بی ایس او سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بلوچستان کے حقوق کے لیے پارلیمانی جدوجہد پریقین رکھتی ہے اوراسی لیے ان کی تنظیم بلوچستان نیشنل پارٹی سے قریب تر ہے۔

بی ایس او کی تشکیل اورتوڑ پھوڑ

بی ایس او نامی طلبہ تنظیم 1962 میں کراچی میں تشکیل پانے والی ‘بلوچ اسٹوڈنٹس ایجوکیشنل آرگنائزیشن’ اورکوئٹہ میں تشکیل پانے والی ‘ورنا وانندہ گل’ نامی تنظیم کے انضمام سے تشکیل پائی۔ قوم پرست رہنما میرغوث بخش بزنجو کے صاحبزادے بزن بزنجو، حال ہی میں وفات پانے والے عبدالحئی بلوچ، مرحوم صحافی صدیق بلوچ اور عبدالحکیم بلوچ تنظیم کے بانی رہنماؤں میں شامل تھے۔

بی ایس او کے بانی رکن عبدالرحیم ظفر نے اپنی کتاب ‘سنگ لرزاں: بی ایس او تشکیل سے تقسیم تک’ میں طلبہ تنظیم کے ابتدائی برسوں اور اس میں ہونے والی دھڑے بندیوں کا تفصیل سے احاطہ کیا ہے۔

مصنف زرک میر اپنی کتاب ‘شال کی یادیں’ میں لکھتے ہیں کہ سوشلسٹ نظریات کی حامل قوم پرست طلبہ تنظیم سوویت یونین کے انہدام کے سبب کافی متاثر رہی اور دھڑوں اور ٹکڑوں میں تقسیم ہونے اورلاحقے اورسابقے رکھنے کے باجود اپنا وجود برقرار رکھتی رہی۔

بلوچستان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران شدت پسندی کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

زرک میر نے کتاب میں بی ایس او کی توڑپھوڑخصوصاً تنظیم کے قیام کے پہلے کونسل سیشن اور 1986 کی تقسیم پرکافی تفصیل سے لکھا ہے۔

اُن کے بقول 1997 میں جب ‘بی این پی’ نے قلات اور خاران پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست پر ‘بی ایس او ‘کے سیکریٹری جنرل ثنا اللہ بلوچ کو نامزد کیا تو یہ اختلافات سامنے آئے کہ تنظیم کو پارلیمانی سیاست کی طرف راغب کر کے انقلابی سوچ کو محدود کیا جا رہا ہے۔

بی ایس او آزاد کی تشکیل

آج بھی بی ایس او تین واضح دھڑوں میں منقسم ہے۔ بی ایس او پجار عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی اوربی ایس او کا ایک دھڑا سردار اخترمینگل کی ‘بی این پی’ کے ساتھ وابستہ ہے۔ بی ایس او آزاد نامی دھڑے کو علیحدگی پسند تنظیموں سے وابستگی کی بنیاد پرکالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔ بی ایس او کا ایک دھڑا کچھ عرصے قبل ظریف رند کی قیادت میں تشکیل پایاہے۔

البتہ بی ایس او کی حالیہ سیاست سے باخبر طلبہ رہنما، صحافیوں اورسیاسی رہنماؤں کا کہناہے کہ 2000 کے اوائل میں بی ایس او میں پارلیمانی سیاست اور مزاحمت کے معاملے پرشروع ہونے والے اختلافات بی ایس او آزاد کی شکل میں ختم ہوئے۔ 2008 میں منتخب ہونے والے چیئرمین بشیرزیب (جو اب بی ایل اے کے سربراہ ہیں) نے تنظیم کوپارلیمانی سیاست سےمکمل لاتعلق قرار دیتے ہوئے عسکریت پسند علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت شروع کی۔

سیاسی جدوجہد کے بجائے مسلح مزاحمت

بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی سرگرمیوں پررپورٹنگ کرنے والے صحافی کیا بلوچ کا کہناہے کہ بی ایس او میں تبدیلی 2002 کے اوائل میں اس وقت ہوئی جب عبدالحئی بلوچ کی بلوچستان نیشنل موومنٹ (جو بعد میں نیشنل پارٹی میں تبدیل ہوئی) سے وابستہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتوں سے قربت کی بنیاد پر کونسل سیشن کا بائیکاٹ کیا۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ ‘کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ’ کے سربراہ ہیں اور انہوں نے غیر پارلیمانی سیاست اور بی ایس آو کی آزاد حیثیت کا نظریہ رکھتے ہوئے بی ایس او آزاد کی بنیاد رکھی اور تنظیم کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا بلوچ نے بتایا کہ اُس وقت ‘بی ایس او آزاد’ اور محراب کے علاوہ بی این پی کے ساتھ وابستہ ‘بی ایس او مینگل’ اوربی این پی عوامی سے وابستہ ‘بی ایس او اسٹار’ بھی فعال تھیں۔



ان کے بقول ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے بی ایس او میں غیر پارلیمانی سیاست کے نکتے پردیگر دھڑوں سے بات چیت شروع کی اوریوں ‘بی ایس او اسٹار’ اور’بی ایس او آزاد’ نے آپس میں انضمام کا اعلان کرتے ہوئے ‘بی ایس او متحدہ’ کے نام سے بی ایس اوکا ایک نیا دھڑا تشکیل دیا۔اس کے بعد گفت وشنید کے بعد سارے دھڑے بی ایس او کے نام پرمتحد ہوئے جو انتہائی قلیل عرصے تک قائم رہا۔

کیا بلوچ کے بقول بلوچ قوم پرست جماعتوں کی وابستگی کے سبب بی ایس او بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔

سن 2008 میں بی ایس او کے کوئٹہ میں منعقد ہونے والے سیشن میں بشیرزیب چیئرمین، سنگت ثنا بلوچ وائس چیئرمین ، گلزار بلوچ سیکریٹری جنرل اور ذاکر مجید جوائنٹ سیکریٹری منتخب ہوئے اور بعد میں انہوں نے اپنی تنظیم کے پرانے نام ‘بی ایس او آزاد’ کے نام سے سرگرمیاں شروع کیں۔

تنظیم عسکریت پسندی کی جانب کیسے راغب ہوئی؟

بشیرزیب بی ایس او آزاد کے 2008 میں منعقد ہونے والے کونسل سیشن میں دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے مگر عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ تعلق کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کریک ڈاؤن اوررہنماؤں کی گرفتاری اورگمشدگیوں کے بعد تنظیم زیرِ زمین چلی گئی۔

چارسال کے دورانیے کے بعد 2012 میں زیرزمین بی ایس او آزاد کے انتخابات میں زاہد بلوچ چیئرمین ، کریمہ بلوچ وائس چیئرمین اور رضا جہانگیر جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔

بی ایس او کے معاملات سے باخبر ایک سیاسی رہنما نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ زاہد بلوچ کی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری اورلاپتا ہونے اوررضا جہانگیرکے ایک چھاپے کے دوران ہلاکت کے بعد کریمہ بلوچ ہی تنظیم کی قائم مقام چئیرپرسن رہیں۔

بلوچ عسکریت پسندوں کو افرادی قوت فراہم کرنے کے مبینہ الزامات کی بنیاد پر پاکستان کی وفاقی وزارت داخلہ نے 15 مارچ 2013 کو بی ایس او آزاد کو دیگرکالعدم شدت پسند تنظیموں کے ہمراہ کالعدم قرار دیا۔

سن 2015 میں بی ایس او آزاد کے کونسل سیشن میں کریمہ بلوچ نے چیئر پرسن منتخب ہو کر بی ایس او کی تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ خیال رہے کہ بعد میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی کریمہ بلوچ کی لاش پراسرار طور پر کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں دسمبر 2020 میں ملی تھی۔

کوئٹہ میں تعینات ایک انٹیلی جنس ادارے کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بی ایس او آزاد کالعدم اسلامی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کی طرز پر سلیپرسیلز میں کام کرتی ہے اورتنظیم کے موجودہ چیئرمین ابرم بلوچ اورجنرل سیکریٹری مہر زاد بلوچ فرضی ناموں کے ساتھ فعال ہیں۔

بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں سے منسلک ایک جریدے کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں بی ایس او آزاد کے چیئرمین ابرم بلوچ نے اس بات کوتسلیم کیا تھا کہ تنظیم نے اپنے طریقۂ کار میں تبدیلیاں کی ہیں۔

اُن کے بقول سخت کریک ڈاؤن کی وجہ سے بی ایس او آزاد نے حالات کے مطابق خود کو ڈھالتے ہوئے اپنی ساخت مکمل بدل دی ہے اور 2011 کے وسط میں ہی ‘سیل سسٹم’ کے مطابق تنظیم کی تشکیل نو کی ہے۔

انٹیلی جنس ادارے کے افسر نے دعویٰ کیاہے کہ ‘بی ایس او آ زاد’ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں ‘سیلوں’ کی صورت میں کام کرکے اللہ نذر بلوچ اوربشیر زیب کے گروہوں کے لیے افرادی قوت فراہم کر رہی ہے۔

حالیہ کریک ڈاؤن کیوں؟

سیکیورٹی ماہرین گزشتہ سال سے حملوں میں اضافے کو بلوچستان میں فعال عسکریت پسندوں کی قیادت میں تبدیلی سے جوڑ رہے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام کے مطابق علیحدگی پسندوں کی قیادت یورپ میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے قبائلی سرداروں سے منتقل ہو کر غیر قبائلی، مڈل کلاس اور بی ایس او آزاد کے سابق رہنما مزاحمت کاروں کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔

پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز (پی آئی پی ایس ) نامی اسلام آباد میں قائم سیکیورٹی تھنک ٹینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2021 میں ملک میں خیبرپختونخوا کے بعد بلوچستان دہشت گردی سے متاثرہ دوسرا صوبہ ہے۔ گزشتہ برس یہاں دہشت گردی کی 81 کارروائیوں میں 136 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ان میں سے 71 حملے بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے کیے گئے تھے جن کے زیادہ تر نشانہ سیکیورٹی اہل کار ہی تھے۔

کوئٹہ میں تعینات ایک انٹیلی جنس ادارے کے افسرکے مطابق عسکریت پسند تنظیموں کے فیلڈ کمانڈرز یورپ میں پرتعیش زندگی بسرکرنے والی قیادت سے الگ ہو کر ‘براس’ نامی اتحاد میں شامل ہوئے ہیں جن کا مقصد باہمی روابط مؤثر بنا کر ریاستِ پاکستان کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں چین کے مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے ‘براس’ نامی اتحاد جولائی 2020 میں بلوچ علیحدگی پسند رہنما اللہ نذر بلوچ کی بی ایل ایف، بشیر زیب کی بی ایل اے، گلزار امام کی نئی تشکیل کردہ بلوچ نیشنلٹ آرمی اور سابق رکن بلوستان اسمبلی بختیار ڈومکی کی بلوچ ری پبلکن گارڈز نامی چار تنظیموں نے تشکیل دیا تھا ۔ بعد ازاں سندھ کی ایک عسکریت پسند تنظیم ‘سندھو دیش ریوولوشنری آرمی’ نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے