لاہور(نمائندہ جسارت) وفاقی شریعت عدالت کی جانب سے حرمت سود کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کا جائزہ اور مستقبل کا لائحہ عمل مرتب کرنے سے متعلق امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی زیرصدارت منصورہ میں اجلاس ہوا جس میں قائدین جماعت سمیت مختلف تنظیموںکے 21علما کرام اور 15ماہرین معیشت و قانون نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیف جسٹس وفاقی شریعت عدالت محمد نور مسکانزئی کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر سید محمدانور اور جسٹس خادم حسین شیخ پر مشتمل بینچ کو ممانعت سود اور ملکی معیشت کو اسلامی ماڈل پر ڈھالنے کا واضح اور دو ٹوک فیصلہ دینے پر زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں ملک کے بینکنگ اور مالیاتی نظام کو مکمل طور پر سود سے پاک کرنے کے لیے فوری اقدامات کا آغاز کرے اور اس سلسلے میں قوم کو واضح روڈ میپ دیا جائے۔ اجلاس نے واضح کیا کہ اگر سودی نظام کے خاتمے کے لیے حکومت نے تاخیری حربے استعمال کیے تو قوم متحد ہو کر 1977ء جیسی تحریک چلائے گی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت کا کہنا تھا کہ سودی نظام کے خلاف وفاقی شریعت عدالت کا فیصلہ عوام کی امنگوں کی ترجمانی ہے۔ معیشت میں بہتری اور خوشحالی کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ جنگ بند کرنا ہو گی۔ سودی سرمایہ دارانہ نظام نے پوری انسانیت کو غلام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان کے قیام کا مقصد یہاں اسلام کا نظام نافذ کرنا تھا، مگر 73برس میں یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ وقت آ گیا ہے کہ بحیثیت قوم ہم پورے نظام کو اسلامی اصولوں پر ڈھالنے کے لیے جدوجہد کریں۔ علما کرام اور نظریہ پاکستان سے محبت کرنے والے تمام افراد کو اس سلسلے میں کردار ادا کرنا ہو گا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے نجات اور معیشت کو اسلامی اصولوں پر ڈھالے بغیر ملک کو اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی نے نظریۂ پاکستان کے تحفظ کے لیے ایک طویل جدوجہد کی ہے۔ ہم نے ملک کے اندرونی معاملات مغربی طاقتوں کی مداخلت کے خلاف اور معیشت میں عالمی مالیاتی اداروں کی عمل داری ختم کرنے کے لیے مسلسل آواز اٹھائی ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست کا مقصد زکوٰۃ و عُشر کے نظام پر مبنی معیشت، اسلامی اور جدید نظام تعلیم، عدالتوں میں انصاف کی جلد فراہمی اور ملکی شہریوں کو صحت اور تحفظ کی فراہمی ہے، ہم اس کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اجلاس کے بعد نائب امراجماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر محمد ابراہیم، اسد اللہ بھٹو نے دیگر قائدین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد حکمرانوں کے امتحان کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ حکومت کو یہ ثبوت دینا ہو گا کہ وہ اسلام، نظریہ پاکستان اور آئین پر مکمل عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ قائدین جماعت نے یہ واضح کیا کہ سودی نظام کے دفاع میں اختیار کیے گئے کسی بھی قسم کے حکومتی تاخیری حربوں اور لیت و لعل کو قوم تسلیم نہیں کرے گی۔ پریس کانفرنس میں شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک، سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی قیصر شریف، تنظیم اسلامی کے رہنما ڈاکٹر حافظ عاطف وحید، ماہر قانون قیصر امام ایڈووکیٹ، سیف اللہ گوندل ایڈووکیٹ، رائو محمد یونس ایڈووکیٹ، مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبدالرئوف، شہزادہ شوکت، مولانا عبدالفغار روپڑی، سید ضیا اللہ شاہ، مرزا عبدالرشیدودیگر رہنما شریک تھے۔ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ حکمران جان لیں کہ سودی نظام کے دفاع کی صورت میں انھیں سخت عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی بینک کی جانب سے بھی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی تو قوم اس کا بائیکاٹ کرے گی۔ ڈاکٹر فرید پراچہ نے مطالبہ کیا کہ حکومت زکوٰۃ و عشر اور صدقات پر قومی معیشت استوار کرے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مختلف چیمبرز آف کامرس اور کاروباری شخصیات سے بھی ملاقات کا آغاز کرے گی تاکہ انھیں اسلامی طرز معیشت اپنانے کی طرف راغب کیا جائے۔پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا مقصد صرف سودی نظام کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ ہم پورے نظام کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آئین پاکستان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت ملک میں شعائر اسلامی کے فروغ اور معاشرے کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ اسد اللہ بھٹو کا کہنا تھا کہ سودی نظام کے خلاف فیصلہ قوم اور غریبوں کی آواز ہے۔ انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے پر کسی قسم کی خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا۔انھوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ اسلامی معیشت کا ماڈل اپنائے۔
لاہور(نمائندہ جسارت)وفاقی شریعت عدالت کی طرف سے حرمت سود کے تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس نے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجلاس اعلامیہ جاری کرتے ہوئے وفاقی شریعت عدالت کے سود کے خلاف فیصلے 26رمضان المبارک 1443ھ (28اپریل 2022ء ) کا خیرمقدم کرتاہے۔یہ اجلاس وفاقی شریعت عدالت کے چیف جسٹس جناب محمد نور مسکانزئی ،جسٹس ڈاکٹر سیدمحمدانور ، جسٹس خادم حسین شیخ کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جنہوںنے انتھک محنت کے ساتھ قرآن و سنت کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے بہت جامع فیصلہ سنایااوراس موقع پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی شریعت عدالت کے سود کے خلاف فیصلے کو ایک آئیڈ یل اور آئینی و قانونی طور پر ایک جامع فیصلہ قرار دیتاہے۔یہ اجلاس پوری اُمت مسلمہ بالخصوص پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہے اور اس اجلاس کے شرکا کااس مبارک موقع پر خیر مقدم کرتاہے۔یہ اجلاس وفاقی شریعت عدالت میں درخواست گزاراور وکلا کی طرف سے جن میں خصوصاً ڈاکٹر فرید احمدپراچہ ،ڈاکٹر حافظ عاطف وحید ، پروفیسر محمدابراہیم ایڈووکیٹ، شیخ القرآن والحدیث مولانا عبدالمالک ،ماہرقانون قیصر امام ایڈووکیٹ ،سیف اللہ گوندل ایڈووکیٹ ،راؤ محمدیونس ایڈووکیٹ ،مولانا زاہد الراشدی ،مولانا عبدالرؤف ملک اور شہزاد شوکت چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سمیت دیگر وکلا کی خدمات کااعتراف کرتا ہے اور عدالتی معاونین ،تحریک انسداد سود،ماہرین ، فقہی ماہرین ، علما کرام ، ماہرین اقتصادیات سمیت تمام افراد اور اداروں کی جدوجہد کو سراہتاہے۔یہ اجلاس متفقہ طور پر اپنی رائے کااظہار کرتا ہے کہ وفاقی شریعت عدالت نے فیصلہ سنانے سے قبل نہ صرف پاکستان بلکہ مسلم ممالک میں بلاسود بینکاری ،ملک بھر کے ماہرین معیشت کی طرف سے پیش کردہ ریکارڈ پر موجود مواد اور ہر لحاظ سے مکمل غورو خوض کے بعد اتفاق رائے کے ساتھ یہ فیصلہ سنایا ہے کہ اس وقت زمینی حقائق کے حوالے سے اسلامی بینکاری کا قابل قبول ہونا اس کی عملیت اور امکانات گزشتہ 2 دہائیوں سے بالکل مختلف ہیں اور سود سے پاک بینکاری کا تیزی سے پھیلاؤ اور تیز رفتار نمونہ صرف پاکستان بلکہ پوری اسلامی دنیا، حتیٰ کہ دنیابھر میں حقیقت کو پروان چڑھاتے ہوئے نہ صرف قابل عمل بلکہ ممکن قرار دیا ہے۔یہ اجلاس فیصلے میں قرآن و سنت کے احکامات کی روشنی میں اور آئین و قانون میں موجود سود کے خلاف شقات کو بنیاد بنائے جانے اور قرآن و سنت کے احکامات کی رو سے سود کی حرمت اپنی تمام شکلوں اور مظاہر میںمکمل اور متعلق گرداننے اور سود کی تمام موجودہ شکلیں ، خواہ وہ بینکاری کی سطح پر لین دین یا نجی لین دین سود کی تعریف میں لائے جانے کے فیصلے کی مکمل تحسین کرتا ہے۔یہ اجلاس وفاقی شریعت عدالت کی طرف سے سودی قوانین یا قوانین کی دفعات کو یکم جون 2022ء بطور قوانین غیر مؤثر کرنے 31دسمبر 2022ء تک تمام قوانین ( سودی ) کو تبدیل کرے۔ 31دسمبر 2022ء تک پاکستان سے سود کے مکمل خاتمے کے فیصلے کی مکمل طو رپر تائید کرتا ہے۔یہ اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وفاقی شریعت عدالت نے اپنے فیصلے میں ربا کی تعریف اور اس کی حیثیت کو عملی اور قانونی دلائل کے ساتھ دوٹوک طورپر متعین کردیا ہے۔ اب اس فیصلے پر عمل درآمد ،مجوزہ مکمل نظام کی تفصیلات اور فیصلے پر عمل درآمد کی حکمت عملی کا کام اب دیگر افراد ،اداروں سے بڑھ کر حکومت کی ذمے داری ہے ۔ لہٰذا حکومت اپنی ذمے داری کو پورا کرے اور اس فیصلے پر عمل درآمد کی صورت میں ہم حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں گے اور اس کے دست و بازو بنیں گے۔ یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ رائج مالیاتی نظام سے فائدہ اٹھانے والے افراد ، اداروںکے حربوں کو ناکام بناتے ہوئے وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر نہ کرے اور نہ ہی کسی دیگر فریق کی طرف سے اپیل دائر کرنے کی صورت میں اس کا دفاع کرے بلکہ حکومت اس فیصلے کی حفاظت اور تنفیذ کے لیے عملی اقدامات کرے اور حکومت کی طرف سے اگر اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جاتی ہے تو ہم اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔اگر بینکوں یا افراد کی طرف سے وفاقی شریعت عدالت کے فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل کی جاتی ہے تو ہم بینکوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے اور ایسے افراد کے خلاف سماجی سطح پر بھرپور مہم چلائی جائے گی۔حکومت سود کے خلاف فیصلے پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلے میں دیے گئے نکات پر فی الفور عمل کرنے کے حوالے سے اپنے ارادے اور پالیسی کااظہار کرے۔ حکومت زکوٰۃ ، عشر اورصدقات کے نظام کو از سر نونافذ کرے۔حکومت کوئی بھی قانون سازی کرتے ہوئے سودکو کسی بھی شکل میں اپنے مالیاتی قوانین میں نہ آنے دے۔ سالانہ مالیاتی قوانین (بجٹ )کے دوران تمام ترامیم بلا سودمنظور کرائی جائیں۔حکومت عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے سود پر اندرونی اور بیرونی قرضے لینا بند کرے۔یہ اجلاس ملک بھر میں بینکرز ،بزنس مین ، علما حضرات اور عوام الناس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔
