مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطینی وزارت صحت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ رواں سال قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے نہتے فلسطینیوں کو ماورائے عدالت شہید کرنے کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا گیا ۔ وزارت صحت کے بیان کے مطابق قابض فوج نے یکم جنوری سے 9 مئی تک غرب اردن، مقبوضہ بیت المقدس اور غزہ کی پٹی میں 50 فلسطینیوں کو بے دردی کے ساتھ شہید کیا، جب کہ تین فلسطینیوں کو 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں شہید کیا گیا۔ اس طرح رواں سال کے دوران اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی کے دوران 53 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق شہدا میں 3خواتین اور 8 بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر شہری غرب اردن کے علاقوں میں شہید ہوئے۔دوسری جانب بیرون ملک مقیم فلسطینی قیادت کو نشانہ بنانے کی اسرائیلی سازش کا انکشاف ہواہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تل ابیب حکومت غزہ کی پٹی میں نئی جنگ شروع کرنے سے بچنے کے لیے فلسطین کی بیرون ملک قیادت کو نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ اسلامی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے رکن سہیل ہندی نے کہا کہ قابض ریاست کی طرف سے حالیہ عرصے میں قتل و غارت کی جو پالیسی اختیار کی گئی تھی، وہ فلسطینیوں کے حوصلے پست کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
