سابق صدر آصف زرداری نے شہباز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے بڑی مشکل کیساتھ آپ کو وزیراعظم بنایا ہے، ذرا حوصلے اور ہمت کیساتھ حکومت کے امور کو چلائیں، ہمیں ابھی فوری الیکشن میں نہیں جانا چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آصف زرداری نے یہ بات وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ ایک خصوصی ملاقات میں کی۔ یہ ملاقات صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلائی گئی تھی جس میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی شریک تھے۔ اس میٹنگ میں ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال کے حل کیلئے بات کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے سربراہان کو نواز شریف کی جلد انتخابات سے متعلق تجویز سامنے رکھی۔ شہباز شریف نے دونوں رہنماؤں کو بتایا کہ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا فیصلہ ہے معیشت کی بہتری کیلئے سخت فیصلے لینے ہوں گے جو ایک لانگ ٹرم حکومت لے سکتی ہے اور اس کیلئے نیا مینڈیٹ لینا ضروری ہے، ہم اس وقت مشکل فیصلے لے کر چند ماہ بعد انتخابات نہیں کرواسکتے، اس صورت میں موجودہ اسمبلیوں کی مدت مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔
وزیراعظم نے زرداری کو بتایا نوازشریف نےسخت فیصلوں کےلیےلانگ ٹرم حکومت کا کہا۔اصف زرداری نےکہا کہ ابھی فوری حکومت نہیں چھوڑنی۔اپکومشکل سےوزیراعظم بنایاحوصلےسےاسکو چلائیں، راستہ نکالیں۔فضل الرحمان نےNکےموقف کی مشروط حمایت کی،نیا مینڈیٹ ہونا چاہیے لیکن کچھ یقین دہانیوں کےساتھ،فضل pic.twitter.com/H0r97ReMmt
— Naeem Ashraf Butt (@naeemashrafbut3) May 17, 2022
اس موقع پر آصف علی زرداری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم فوری طور پر انتخابات کے حق میں نہیں ہیں، آپ کو ابھی حکومت نہیں چھوڑنی چاہیے ہم نے بہت محنت سے آپ کو وزیراعظم بنایا ہے ، آپ حوصلہ کریں اور مشکل فیصلوں کیلئے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کریں، مسائل کے حل کیلئے ہم بھی آپ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سامنے جب شہباز شریف نے نواز شریف کے موقف کو رکھا تو انہوں نے اس کی مشروط حمایت کرتے ہوئے نئے انتخابات سے قبل کچھ یقین دہانی کروائی جائیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ اس معاملے پر باقی اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کی جائےا ور ان کے ساتھ بھی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
