کراچی(اسٹاف رپورٹر)جمعیت اتحاد العلما کراچی کے ذمے داران کا ایک اہم اجلاس ادارہ نور حق میں مولانامفتی علی زمان کشمیری کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سابق رکن قومی اسمبلی و نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ شرکا میں مولانا عبدالوحید ، برجیس احمد ، مولانا یامین منصوری اور دیگر شامل تھے ۔ اجلاس میں وفاقی شریعت عدالت کے سود کے خلاف فیصلے کا بھر پور خیرمقدم کرتے ہوئے اس پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ سود کے خلاف تاریخی فیصلے کی پشت پر پوری قوم ہے اور حکومت کو اس فیصلے سے ہر گز رو گردانی نہیں کرنے دی جائے گی ۔ 9جون کو کراچی بھر کے علما کرام کا ایک عظیم الشان ’’ علما کنونشن ‘‘ منعقد کیا جائے گا اور تمام مدارس اور مساجد کے ائمہ کرام سے رابطہ کیا جائے گا ۔ اجلاس میں کنونشن کی تیاریوں و انتظامات کے لیے مولانا حبیب احمد حنفی ، مولانا یامین منصوری اور مولانا عبد الوحید پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ حرمت سود ایک ایسا معاملہ ہے جس پر تمام عالم اسلام متفق ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ؐ سے کھلی بغاوت ہے ، جماعت اسلامی نے ہمیشہ نہ صرف اس کے خلاف آواز اُٹھائی ہے بلکہ قانونی اور عدالتی جنگ بھی لڑی ہے اور سودی نظام سے نجات کے لیے قابل عمل تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں ، اس سلسلے میں پروفیسر خورشید احمد نے گرانقدر کام کیا ہے ۔ اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ وفاقی شریعت عدالت کے تاریخی فیصلے میں متعین وقت بھی دیا گیا ہے اور اگر اس وقت کے اندر عمل درآمد نہ ہوا تو یہ فیصلہ از خود نافذ العمل ہو جائے گا ۔ اس تاریخی فیصلے پر وفاقی شریعت عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل دونوں قابل ِ مبارک باد ہیں ، انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی سود کے خلاف فیصلہ دیا جا چکا ہے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے عدالت عظمیٰ میں یہ فیصلہ چیلنج کر دیا تھا۔پھر پرویز مشرف نے بھی اس فیصلے کے خلاف اپیل کی ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے ایک مؤثر کمیٹی بنائی جائے ۔ ماہرین معیشت ، نظام بینکاری اور کامرس اور ٹریڈز سے وابستہ افراد سے رابطہ کر کے انہیں متحرک اور عوام کو اس حوالے سے بیدار اور منظم کیا جائے ۔ مولانا عبد الوحید نے کہا کہ جمعیت اتحاد العلما اس سلسلے میں اپنا بھر پور کردار کرے گی ۔ علما کرام ، دینی مدارس کے طلبہ و اساتذہ اور عوام کے تعاون اور دبائو کے ذریعے وفاقی حکومت کو اس فیصلے سے کسی صورت انحراف نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ برجیس احمد نے کہا کہ ہماری ذمے داری ہے کہ علما کرام و ائمہ مساجد سے زیادہ سے زیادہ رابطہ کریں اور یہ کام فوری طور پر شروع کردیا جائے ۔ علما کرام اپنے خطبات میں اس تاریخی فیصلے اور سود کی حرمت کے حوالے سے عوام کے اندر آگاہی اور اس پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کریں ایسا کریں گے تو اس کے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔مفتی علی زمان کشمیری نے کہا کہ اس مہم اور تحریک کو انتہائی منظم انداز میں لے کر چلنا ہے ، اس مہم اور 9جون کو علما کنونشن کے سلسلے میں تمام اضلاع میں فوری طور پر اجلاس طلب کر کے تیاریاں شروع کر دی جائیں ۔
