باخبر حلقوں نے تصدیق کی ہے کہ نیوٹرل نے عمران خان کی درخواست پر نیوٹرل نے پی ٹی آئی وفد کی حکومت سے ملاقات کروائی ہے۔ وفد نے لانگ مارچ ختم کرنے کیلئے انتخابات کی کوئی بھی تاریخ دینے کی تجویز دی جسے نواز شریف نے یکسر مسترد کردیا۔
سینئر تجزیہ کار طلعت حسین نے اسی حوالے سے اپنی ٹویٹ میں بڑی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر، پرویز خٹک اور شاہ محمود حکومت سے بات کرکے دھرنے کو عام احتجاج میں بدلنے کی تجویز لائے تھے۔ مسلم لیگ ن کو نواز شریف کی ہدایت کا انتظار ہے۔
اسد عمر، پرویز خٹک، شاہ محمود حکومت سے بات کر کے دھرنے کو عام احتجاج میں بدلنے کی تجویز لے آئے۔ نواز شریف کی ہدائت کا انتظار۔ اس سے پہلے فواد اور اسد قیصر کی “انتخاب کی کوئ سی تاریخ” دے کر مارچ سے نکلنے کی تجویز کو نواز شریف نے رد کر دیا۔رابطے نیوٹرل نے عمران کے کہنے پر کروائے
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) May 25, 2022
انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے فواد چودھری اور اسد قیصر کی “انتخاب کی کوئی سی تاریخ” دے کر مارچ سے نکلنے کی تجویز کو نواز شریف نے رد کر دیا تھا۔ یہ رابطے نیوٹرل نے عمران کے کہنے پر کروائے تھے۔
اپنی ایک اور ٹویٹ میں سید طلعت حسین نے لکھا کہ چینلوں سے “کامیاب مذاکرات” کی خبریں چلوا کر عمران خان کو مشکل صورتحال سے نکالا جا رہا ہے۔ مگر عمران خان نے ابھی پیغام دیا کہ میں ڈی چوک میں آئوں گا۔
