اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے حکومت کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)کی جانب سے قیمتیں بڑھانے کے معاملے پر ڈٹ جانے مشورہ دے دیا، جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو اسٹیٹ بینک سے متعلق قانون سازی ریورس کرنا ہوگی، آج پارلیمنٹ کی یہ حیثیت ہے کہ آئی ایم ایف کا معاہدہ ہو یا فیٹف کا یا کوئی معاہدہ، اسکی تفصیلات ایوان کے سامنے نہیں رکھی جاتیں۔
میاں رضا ربانی نے سوال کیا کہ کیا پی ٹی آئی نے جو فیٹف یا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کی تفصیلات اس ایوان کے سامنے رکھی گئی؟ کیا جب پاکستان کی معاشی خود مختاری کو عالمی سامراجی قوتوں کے سامنے بیچا گیا کیا پارلیمان کھڑی ہوئی؟ کیا جب اسٹیٹ بینک کو بیچا گیا اس تفصیلات اس ایوان میں رکھی گئیں؟ اس ایوان کو اسٹیٹ بینک سے متعلق قانون سازی ریورس کرنا ہوگی۔
سینیٹر میاں رضا ربانی کا کہنا تھاکہ ہر ادارے کو اپنی آئینی دائرے میں محدود رہنا چاہیے، میں اپنی انا کو ختم کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اس حوالے سے کردار ادا نہیں کیا۔انہوں نے سوال کیا کہ جب عالمی مالیاتی فنڈ کیساتھ معاہدہ کیا گیا کہ پٹرول کی قیمت آسمان پر لے جائیں گے، کسی نے پوچھا، جب بجلی کی قیمت آسمان تک لائی گئی اور روشنیاں ختم کی گئیں، اس وقت کسی نے پوچھا۔ آج ان کا وہ اقدام موجودہ حکومت کے گلے میں آکر اٹک گیا ہے۔
