English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیراعلیٰ بلوچستان کیخلاف تحریک عدم اعتماد ابتدائی مرحلے ہی میں مسترد

القمر

کو ئٹہ ( نمائندہ جسارت) وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد ابتدائی مرحلے میں ہی مسترد ہو گئی۔ سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان، سردار یار محمد رند اور ان کے ہم خیال اراکین کو صوبائی اسمبلی میں مطلوبہ تعداد میں اراکین کی حمایت نہ ملنے کے باعث شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اجلاس میں عبدالقدوس بزنجو کے حامی اور مخالف اراکین میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کے خلاف گزشتہ ہفتے جمع کرائی گئی تحریک عدم اعتماد جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کی گئی۔قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے کل 65 اراکین کا 20 فیصد یعنی 13 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔ تحریک پیش ہونے کے بعد اس پر 3 سے 7 دن کے اندر ووٹنگ ہونا تھی جس کے لیے 33 ارکان کی حمایت درکار تھی۔تاہم جب اجلاس میں بی اے پی کے رکن اسمبلی میر ظہور احمد بلیدی نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تو صرف 11 اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر اس کی حمایت کی یوں قائمقام اسپیکر سردار بابر موسیٰ خیل نے مطلوبہ اکثریت حاصل نہ ہونے پر تحریک کو مسترد کردیا۔ اس طرح عبدالقدوس بزنجو کی کرسی کو لاحق خطرہ ٹل گیا۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند اور بی این پی عوامی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر زراعت اسد اللہ بلوچ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ پوائنٹ آف آرڈ ر پرگفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر و رکن بلوچستان اسمبلی میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ جس طرح یہ حکومت بنی اور اس کی تباہ کاریاں بلوچستان کے لوگوں پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ یہ اس حکومت کو بنانے میں چند ٹھیکیداروں کا ہاتھ ہے یہ بات اس لیے نہیں کہہ رہا کہ میں تحریک عدم اعتماد کر محرک ہوں بلکہ 65 کے ایوان کے ہر شخص کو یہ بات پتا ہے ، انہوں نے کہا کہ جس شخص نے اس حکومت کو لانے میں سرمایہ کاری کی اس کا مقصد بلوچستان کے عوام کے مفاد میں نہیں تھا میں اس گناہ میں شامل تھا لیکن جیسے ہی مجھ پر یہ بات آشکار ہوئی تو میں نے کابینہ سے استعفادے دیا ۔ظہور بلیدی بات کررہے تھے اس دوران جمعیت کے اقلیتی رکن اسمبلی مکھی شام لعل نے کورام کی نشاندہی کی جس پر ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے اجلاس میں کورم پورا کرنے کی لیے گھنٹیاں بجوائیں بعدازں کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کی لیے ملتوی کردیا گیا۔خیال ر ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر کل 14 اراکین کے دستخط تھے جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال خان سمیت ان کی جماعت کے 24 میں سے صرف 7 اراکین شامل تھے۔ پی ٹی آئی کے7 میں سے 4 اور اے این پی کے 4 میں سے 3 نے بھی تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے تھے تاہم بی اے پی کے نوابزادہ طارق مگسی، اے ین پی کے ملک نعیم بازئی اور پی ٹی آئی کے مبین خان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔پی ٹی آئی کے مبین خان نے ایک دن قبل عبدالقدوس بزنجو سے ملاقات کرکے واپس ان کے کیمپ میں شامل ہوگئے اور تحریک عدم اعتماد کی حمایت سے دستبردار ہوگئے جبکہ بی اے پی کے نوابزادہ طارق مگسی اور اے این پی کے ملک نعیم بازئی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ تحریک عدم اعتماد کی حمایت اور مخالفت پر بی اے پی کے سربراہ جام کمال خان اور پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالقدوس بزنجو نے ایک دوسرے کو آئین کی شق 63 کے تحت شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے