English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مقبوضہ کشمیر،یاسین ملک کی سزا کیخلاف احتجاج ،مزید 3 نوجوان شہید

القمر

سری نگر(صباح نیوز) مقبوضہ کشمیر میں یاسین ملک کی سزا کیخلاف احتجاج ‘مزید 3 نوجوان شہید ۔تفصیلات کے مطابق بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں تین کشمیری نوجوان شہید کر دیے ۔ جمعرات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے جم گنڈ میں فوج نے ایک پر تشدد آپریشن کے دوران ان نوجوانوں کو قتل کیا۔ اس طرح 24 گھنٹوں کے دوران شہید ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد6 ہوگئی ہے اس سے قبل بدھ کوضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن میں تلاشی آپریشن کے دوران تین نوجوان شہید کر دیے گئے تھے۔ کپواڑہ کے علاقے جم گنڈ میں بھارتی فوج کا آپر یشن جاری ہے فوج نے ضلع کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں جبکہ انٹرنٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے ۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیرمیں حریت پسندلیڈر محمد یاسین ملک کوبھارتی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرین میں شامل لوگوں کے خلاف قابض فورسز نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کردیا ہے ، سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کی بدھ کو ڈرون سے نگرانی کرکے اس کی ویڈیو بنائی گئی تھی ۔ اب ویڈیو فوٹیج کی مدد سے احتجاج میں شامل لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے کریک ڈائون شروع کردیا گیا ہے۔ جمعرات کو اس حوالے سے سرینگر کے کئی علاقے میںقابض فورسز نے چھاپے مارے اورایک درجن نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ، واضح رہے کہ بدھ کو سرینگر میں یاسین ملک کی ِسزا کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج مظاہرے کیے گئے تھے اور اس موقع پر لوگوں نے آزادی اور یاسین ملک کے حق میں نعرے بلند کیے تھے۔اس سے قبل بھارت کی قابض فورسز نے اسی طرح کے کریک ڈائون کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں بند کردیا تھا۔دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس ( میرواعظ )کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے یاسین ملک کو دی گئی سزا کی مذمت کی ہے۔ سری نگر میںایک بیان میں کہا ہے کہ 1994 سے یاسین ملک کشمیرتنازع کو پرامن اور جمہوری طریقوں سے حل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ وہ مذاکرات اور مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے تھے کہ انڈیا، پاکستان اور کشمیر کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو۔ انھوں نے کئی دہائیوں سے کشمیر پر ہونے والے مذاکرات میں حصہ بھی لیا ہے۔ یاسین ملک تنازع کشمیر کے پرامن اور جمہوری طریقے سے حل کے لیے کوششیں کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر کے باوجود کشمیریوں کی طرف سے مکمل ہڑتال جیلوں اور گھروں میں نظربندآزادی پسند قیادت کے ساتھ ان کی محبت کا مظہر ہے۔میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور کشمیری عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنازع کشمیر کو فریقین کے درمیان گفت و شنید کے ذریعے پرامن طریقے سے حل کرے ۔دوسری جانب کشمیری حریت پسند لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے بھارت کی نام نہاد عدالت کی جانب سے اپنے شوہر کو عمر قیدکی سزاکے فیصلہ کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کی عدالت کے فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے گا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو اور جاری بیان میں مشعال ملک نے سزا کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیتے ہوئے کہ یہ ناقابل قبول ہے اور ہم ہار نہیں مانیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یکطرفہ فیصلہ کشمیری عوام کو کسی صورت قبول نہیں جو جھوٹ پر مبنی ہے۔مشعال ملک نے الزام عائد کیا کہ انڈین حکام نے کشمیر کی سب سے طاقتور اور پر امن آواز کو خاموش کرنے کے لیے عدالت پر اثر و رسوخ استعمال کیا۔مشعال ملک نے کہا کہ ’انڈیا کی حکومت کی قید میں یاسین ملک کی جان کو خطرہ لاحق ہے کیوں کہ درجنوں کشمیری رہنماوں کو پہلے بھی تشدد سے ہلاک کیا جا چکا ہے یا پھر موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ یاسین صاحب نے کسی دہشت کارروائی یا دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حق خود ارادیت کی جدوجہد چلا رہا ہوں جو بھگت سنگھ اور مہاتما گاندھی کی بھی تھی۔ یہ من گھڑت اور جھوٹا مقدمہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے