English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک بچانے کا ٹھیکا صرف ہم نے نہیں لیا، اداروں کی ذمے داری ہے ملک بچائیں، عمران خان

القمر

پشاور (صباح نیوز)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے لانگ مارچ روکے جانے پر حکومت کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے و نیب اور انتخابی ترمیمی بلز چیلنج کرنے کا اعلان کردیا اور ملک کے اداروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے اور ملک کو بچانے کا ٹھیکا صرف ہم نے نہیں لیا ہوا ہے،اداروں کی بھی ذمہ داری ہے ملک بچائیں،جس طرح کا تشدد کیا گیا ، اس کو ہر فورم پر اٹھائیں گے۔پشاور میں پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جس طرح کا تشدد کیا گیا اس کی رپورٹس آرہی ہیں کہ اصل میں کس طرح کے حربے استعمال کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کو ہر فورم پر اٹھائیں گے، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس، بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے اٹھائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ 6 ہفتے نہیں گزرے کہ ہمارے اوپر مسلط کی گئی امپورٹڈ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے اضافہ کردیا ہے جبکہ بھارت امریکا کا اسٹریٹجک اتحادی ہونے کے باوجود آزادانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے روس سے 30 فیصد کم پر تیل درآمد کرکے پیٹرول سستا کردیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے احتجاج کی دوسری وجہ یہ تھی کہ کسی سے ڈر کر اپنا ضمیر بیچتے ہیں تو یہ شرک ہے، ہم اس امپورٹڈ حکومت کو کبھی مانیں گے نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ حکومت ہے، جس میں 60 فیصد لوگ ضمانت پر ہیں، یہ اس ملک کے کرپٹ ترین لوگ ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہم ان کو تسلیم نہیں کریں گے، میں اپنی جان قربان کروں گا لیکن ان کو تسلیم نہیں کروں گا، ہم نے جائزہ لینے کے بعد تیاری شروع کی ہے، میں نے 6 دن کا وقت دیا تھا، اس کے بعد میں اعلان کروں گا کہ ہم پھر کب اسلام آباد آرہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مارچ کی تیاری کے لیے آج سے سب کو لگا دیا ہے، اپنے حلقوں میں جائیں اور پوری تیاری کریں، انہوں نے ہمارے ساتھ جو کیا ہے اس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے پورا منصوبہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیر کو سپریم کورٹ میں ہم درخواست لے کر جارہے ہیں اور پوچھیں گے کہ کیا اس ملک کے اندر ایک پرامن احتجاج ایک جمہوری پارٹی کا حق ہے یا نہیں ہے، اگر ہم پرامن احتجاج کریں گے تو کیا یہ پکڑ دھکڑ ہونی ہے واضح طور پر بتادیں۔عمران خان نے کہا کہ ابھی ہمارے پاس معلومات ہیں کہ انہوں نے کئی درختوں کو آگ لگائی، صاف نظر آرہا ہے، وہ ہمارے لوگ نہیں تھے، ایک جگہ پولیس والے کر رہے تھے اور ایک جگہ مسلم لیگ (ن) والے کر رہے تھے ،ہمارے اوپر ڈالنے کے لیے۔انہوں نے کہا کہ ہم سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی آپریشنز کے خلاف عدالت جانا ہے اور ایف آئی آر درج کرائیں گے، اسلام آباد کا آئی جی وہ مجرم جس کو لاہور کی سیف سٹی میں سزا ہونے والی تھی، اس کو یہاں بٹھایا تاکہ وہ غلط کام کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پولیس افسروں کے نام لکھ رہے ہیں، سب کے خلاف ایف آئی آر کاٹیں گے اور سوشل میڈیا پر ان کی شکلیں ڈالیں گے جو انہوں نے اس ملک کے ساتھ کیا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ پرامن احتجاج کے دروازے روکیں گے تو ہم گھر میں چپ کرکے بیٹھ جائیں گے اور ان کو تسلیم کریں گے، ہم کبھی ان کو تسلیم نہیں کریں گے، ہمارے لیے کیا راستہ رہ جائے گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر پہلے ہی ان کا نوکر تھا اور اب مزید اپنے دو نئے لوگ وہاں بھرتی کروا لیے اور نیب کا اپنا آدمی رکھوانے لگے ہیں، ایف آئی اے کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم عدالت جارہے ہیں ہمیں اجازت دی جائے، ہم اپنی پوری منصوبہ بندی کر رہے ہیں، جو سبق سیکھے ہیں اور کس چیز سے بچنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب الیکشن کے بارے میں بیٹھیں گے تو پھر دوسری چیزوں پر بات چیت کر سکتے ہیں، الیکشن کمیشن کے اوپر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت کو اعتماد ہی نہیں ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اداروں کو پاکستانی کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے، اس ملک کو بچانے کے لیے صرف ہم نے کوئی ٹھیکا نہیں لیا ہوا، یہ ساری قوم کی ذمہ داری ہے اور اداروں کی ذمہ داری ہے جو سارا تماشا دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ اسی طرح چلتا رہا تو وہ سب ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے اجازت دی اور اس طرح کے کرپٹ، مجرموں، سزا یافتہ، جو لوگ ضمانت پر ہیں جو 30 سال سے اس ملک کے اوپر قیادت کے لیے بیٹھا ہوا ہے وہ سب ذمہ دار ہوں گے۔انہوں نے نیب ترمیمی بل اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل کو بھی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ جیسے بنیادی حق سے محروم کرنا ناانصافی ہے، فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے جب کہ اپنی کرپشن چھپانے کے لیے انہوں نے نیب کے قوانین میں ترمیم کی۔پریس کانفرنس میں عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، حماد اظہر اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے