ایندھن ایک ایسی چیز ہے جو روزمرہ معمولات زندگی کا لازمی جزو ہے۔ اس کے استعمال سے زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔ اگر یہ مہنگا ہوگا تو سب مہنگا ہوجائے گا۔ کیونکہ ہر کام کا انحصار سواری پر ہے اور سواری ڈیزل اور پیٹرول سے چلتی ہے۔
نئی حکومت جب سے آئی ہے ہر چیز مہنگی ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی وجہ سے یہ ہورہا ہے۔ تو نئی حکومت مت مانے انکی شرائط چادر دیکھ کر پاوں پھیلائے۔عوام پر ہر چیز کا بوجھ کیوں ڈالا جارہا ہے۔ 20 روزکے اندر پیٹرولیم مصنوعات میں تین بار اضافہ شاید ہی پہلے اس ملک میں ہوا ہو۔اسکے بعد اب پیٹرول کی قیمت 233 روپے اور 89 پیسے ہوگئ ہے اور ڈیزل کی قیمت 263 روپے 31 پیسے ہوگئ ہے۔مٹی کا تیل 211.43 روپے کا ہوگیا ہے۔
عوام اس اضافے پر حیران رہ گئے کہ اتنا ظلم کیسے کیا جاسکتا ہے۔ عوام کیسے سفر کریں گے لیکن حکومت کو اس بات کا احساس ہی نہیں ہے۔ مہنگائی اس بےحسی کو مشکل فیصلے کہہ کر عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔اس سے پہلے 2 جون کو پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوا۔ اس سے بھی پہلے 26 مئی کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم آج ہونے والے اضافے نے تو عوام پر وہ پیٹرول بم مارا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔
غریب عوام کیا کریں سواری کا استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ کام کاج تک کیسے جائیں گے جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تو بڑھتی جارہی ہیں اور انکی آمدنی نہیں بڑھ رہی۔ ایک لینڈ کروزر والا تو اتنا مہنگا پیٹرول لےسکتا ہے لیکن ایک موٹر سائیکل والا ایسے کیسے افورڈ کرے گا۔
جس وقت یہ اعلان ہوا آدھا پاکستان سو رہا تھا اب صبح جب غریب لوگ پرانے نرخ کے حساب سے پیسے لے کر موٹر سائیکل میں فیول بھروانے جائیں تو اضافی پیسے کہاں سے لائیں گے کیونکہ انکی تنخواہیں تو اتنی ہی ہیں لیکن باقی ہر چیز کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔
بہت افسوسناک صورتحال ہے ایک طرف حکومت ہر چیز مہنگی کررہی ہے اور دوسری طرف اس چیز کا الزام سابقہ حکومت پر ڈال رہی ہے۔ پرانی حکومت نے تو یہ نرخ نہیں بڑھائے جس مکینزم سے انہوں نے مہنگائی روک رکھی تھی نئ حکومت کو وہ ہی فارمولا اپنانا چاہیے۔
حکومت اشرافیہ اپنے خرچے کم کرے اپنی عیاشیوں کا بوجھ عوام پر مت ڈالے۔ عوام کے پاس پہلے ہی کھانے کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں ہے۔ اس ہی طرح مہنگائی ہوتی رہی تو ملک بدامنی کا شکار ہوسکتا ہے۔ یہ بات محسوس بھی کی گئ ہے کہ اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان قیمتوں کو واپس پرانے نرخ پر لایا جائے اور دیگر چیزوں کی قیمتیں بھی کم جائیں۔
دو ہزار کے ریلیف پیکج سے کچھ نہیں ہوگا ۔ مہنگائی کم کی جائے اور عوام کی آمدنی میں اضافے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔
