انڈین ریاستوں بہار، راجستھان اور اتر پردیش سے لے کر ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ تک فوج میں بھرتی سے متعلق ‘اگنی پتھ سکیم’ کی مخالفت جاری ہے۔
مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دو دن پہلے اس سکیم کا آغاز کیا تھا۔ اس کے تحت ساڑھے سترہ سال سے اکیس سال تک کے نوجوانوں کو مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دینے کا موقع ملے گا۔
Where are the defence reporters who were preaching if you don’t want your house demolished, don’t indulge in violence. What will happen to these frustrated army aspirants now? Vehicles burnt at DC office #Agnipath https://t.co/4eSz7IrTkR
— Gargi Rawat (@GargiRawat) June 16, 2022
اس سکیم کے تحت فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کی سروس کی مدت 4 سال ہوگی۔ تاہم کل بھرتیوں میں سے 25 فیصد کو ریگولر سروس میں لیا جائے گا۔
اس سکیم کے اعلان کے بعد سے بہار سے لے کر ہریانہ اور راجستھان سے لے کر اتراکھنڈ تک نوجوانوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔
#Agnipath | In Bihar’s Buxar, aspirants flock to the railway station and raise slogans against the Centre’s #AgnipathRecruitmentScheme https://t.co/6jTnINJFUc pic.twitter.com/okdaWqa15G
— NDTV (@ndtv) June 16, 2022
ہریانہ کے پلوال ضلع میں احتجاجی نوجوانوں نے ضلع مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں توڑ پھوڑ کی اور سڑک پر کھڑی کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق مظاہرین نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی۔
احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے پلوال میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک جگہ پر پانچ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
#अग्निवीर #Agniveers #Agnipath #tourofduty protest from maner, bihar@HansrajMeena @yadavtejashwi pic.twitter.com/d2K9DD0Fu0
— Dhiraj Kumar (@DhirajK22702206) June 15, 2022
ہریانہ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ امن وامان کو کنٹرول کرنے کے لیے پلوال ضلع میں موبائل انٹرنیٹ، ڈونگل اور ایس ایم ایس کے ذریعے انٹرنیٹ سروس کو اگلے 24 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نوجوانوں نے ہریانہ، پلوال، ریواڑی، روہتک اور چرخی دادری سمیت کئی اضلاع میں حکومت کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
Want proof that these Riots are by paid stooges?
Watch a physically handicapped guy doing arson for #Agnipath Army Job.
How dumb does the opposition think Indians are? pic.twitter.com/epDIZL05kH
— Arun Pudur 🇮🇳 (@arunpudur) June 16, 2022
پلوال میں اس سکیم کے خلاف احتجاج کرنے آئے نوجوان مشتعل ہو گئے جس کی وجہ سے احتجاج پرتشدد ہو گیا۔ مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور رہائش گاہ پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ چار گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس کے بعد ہریانہ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔
ادھر روہتک میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج میں ایک نوجوان کی خودکشی کی بھی خبر ہے۔ روہتک کے ڈی ایس پی مہیش کمار نے میڈیا کو بتایا، "سچن نامی نوجوان کے والد نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا نوکری کی تلاش میں ہے، اس نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔”
Those who did this don’t deserve to be in any Government or private service. Burning public property is unacceptable. Crime against country. Whether #Agnipath is a game changer or not, arsonists can never be #Agniveers.
Opposition has to be democratic.Anarchy clearly unacceptable pic.twitter.com/nriCUC3DYM— GAURAV C SAWANT (@gauravcsawant) June 16, 2022
نوجوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ "وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہا تھا، نئے منصوبے کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد، اسے لگا کہ اس کی محنت رائیگاں گئی ہے۔”
فوج میں بحالی کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے بکسر میں طلباء کا احتجاج نہ صرف دوسرے دن بھی جاری رہا بلکہ مزید مشتعل ہوگیا۔ صبح سے ہی ترنگا جھنڈا لے کر بکسر اسٹیشن پر پہنچے نوجوانوں نے ریلوے ٹریک کو بلاک کردیا۔ طلباء نے ڈمراؤ اسٹیشن پر ریلوے ٹریک کو آگ لگا دی۔
Govt Shld take the responsibility for pushing the country into such crisis Delhi Police 😡😠#ModiMustResign #अग्निवीर #NarendraModi #Agnipath #Agniveers #AgnipathScheme #AgnipathRecruitmentScheme
☑️☑️☑️ ❌ ❌❌ pic.twitter.com/pBOp7qNNwG
— ℝ𝕒𝕞 𝕔𝕙𝕒𝕣𝕒𝕟 📿🚩🚩 (@Boss42265174) June 16, 2022
ساتھ ہی ٹرینوں پر پتھراؤ کرکے شیشے بھی توڑ دئیے۔ طلباء نے بکسر شہر کے جیوتی چوک، اسٹیشن روڈ کو بلاک کرکے مرکزی حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔
احتجاج کرنے والے طالب علم چندن کمار نے کہا، "حکومت ہمیں اتنی محنت کرنے کے بعد چار سال کی نوکری دینے کا وعدہ کر کے بے وقوف بنا رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بھرتی کا عمل پہلے کی طرح ہو جائے۔
New variant of “patriotism” to serve the nation. They literally made it #Agnipath ! pic.twitter.com/I6Ht9gC7nA
— महेंद्र रजक (@rajak_mahendar) June 16, 2022
جہان آباد میں بھی طلبہ نے جمعرات کی صبح سے ہی ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا۔ مشتعل طلباء نے کہا کہ جب لیڈر کی مدت کار پانچ سال ہے تو ہم چار سال فوج میں کیا کریں گے؟ بہار میں کون سی صنعت ہے جس میں ہم واپس آکر کام کریں گے، ہم پرانا حکمرانی چاہتے ہیں، ہم سے مشورہ کریں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے تو ہم اسے قبول کریں گے۔
Indian army aspirants protesting against #Agnipath scheme by pelting stones, blowing train boogies, sticks but media won’t call them stone pelters,police won’t fire gun shots, authorities won’t bulldoze houses,bystanders will call them innocent protestors.pic.twitter.com/BVojCYj1RT
— Shameela (@shaikhshameela) June 16, 2022
سب سے زیادہ آتشزدگی کی ویڈیوز بہار کے ضلع سارن سے سامنے آئی ہیں۔ یہاں مشتعل طلباء نے پلیٹ فارم نمبر دو پر کھڑی مسافر ٹرین کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ برونی گونڈیا ایکسپریس کی ایک کوچ کو بھی طلباء نے جلا دیا۔ مشتعل طلباء نے روڈ ویز پر ٹائر جلا کر احتجاج بھی کیا۔
Just a couple of days ago Muslims were lectured by the same people that ” In a democracy violence is unacceptable”.
Now they are burning tyres effigies, vandalising buses.
No lathicharge, tear gas or bullets? #AgnipathRecruitmentScheme#Agnipathpic.twitter.com/QYVJQg2ZQw
— Abu Zaid Sarooji (@Assumed_Sarooji) June 16, 2022
