English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

انڈین فوج کے ”اگنی پتھ” پروگرام کیخلاف پورے ملک میں ہنگامے پھوٹ پڑے، کئی ٹرینیں نذر آتش

القمر

انڈین ریاستوں بہار، راجستھان اور اتر پردیش سے لے کر ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اتراکھنڈ تک فوج میں بھرتی سے متعلق ‘اگنی پتھ سکیم’ کی مخالفت جاری ہے۔

مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے دو دن پہلے اس سکیم کا آغاز کیا تھا۔ اس کے تحت ساڑھے سترہ سال سے اکیس سال تک کے نوجوانوں کو مختصر مدت کے لیے فوج میں خدمات انجام دینے کا موقع ملے گا۔

اس سکیم کے تحت فوج میں بھرتی ہونے والے نوجوانوں کی سروس کی مدت 4 سال ہوگی۔ تاہم کل بھرتیوں میں سے 25 فیصد کو ریگولر سروس میں لیا جائے گا۔

اس سکیم کے اعلان کے بعد سے بہار سے لے کر ہریانہ اور راجستھان سے لے کر اتراکھنڈ تک نوجوانوں کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔

ہریانہ کے پلوال ضلع میں احتجاجی نوجوانوں نے ضلع مجسٹریٹ کی رہائش گاہ میں توڑ پھوڑ کی اور سڑک پر کھڑی کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق مظاہرین نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی۔

احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے پلوال میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایک جگہ پر پانچ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ہریانہ کے انفارمیشن ڈپارٹمنٹ نے بتایا ہے کہ امن وامان کو کنٹرول کرنے کے لیے پلوال ضلع میں موبائل انٹرنیٹ، ڈونگل اور ایس ایم ایس کے ذریعے انٹرنیٹ سروس کو اگلے 24 گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوجوانوں نے ہریانہ، پلوال، ریواڑی، روہتک اور چرخی دادری سمیت کئی اضلاع میں حکومت کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

پلوال میں اس سکیم کے خلاف احتجاج کرنے آئے نوجوان مشتعل ہو گئے جس کی وجہ سے احتجاج پرتشدد ہو گیا۔ مظاہرین نے ڈپٹی کمشنر کے دفتر اور رہائش گاہ پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ چار گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس کے بعد ہریانہ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔

ادھر روہتک میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف احتجاج میں ایک نوجوان کی خودکشی کی بھی خبر ہے۔ روہتک کے ڈی ایس پی مہیش کمار نے میڈیا کو بتایا، "سچن نامی نوجوان کے والد نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا نوکری کی تلاش میں ہے، اس نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کی ہے۔”

نوجوان کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ "وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے فوج میں بھرتی ہونے کی تیاری کر رہا تھا، نئے منصوبے کے بارے میں معلوم ہونے کے بعد، اسے لگا کہ اس کی محنت رائیگاں گئی ہے۔”

فوج میں بحالی کے قوانین میں تبدیلی کے حوالے سے بکسر میں طلباء کا احتجاج نہ صرف دوسرے دن بھی جاری رہا بلکہ مزید مشتعل ہوگیا۔ صبح سے ہی ترنگا جھنڈا لے کر بکسر اسٹیشن پر پہنچے نوجوانوں نے ریلوے ٹریک کو بلاک کردیا۔ طلباء نے ڈمراؤ اسٹیشن پر ریلوے ٹریک کو آگ لگا دی۔

ساتھ ہی ٹرینوں پر پتھراؤ کرکے شیشے بھی توڑ دئیے۔ طلباء نے بکسر شہر کے جیوتی چوک، اسٹیشن روڈ کو بلاک کرکے مرکزی حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔

احتجاج کرنے والے طالب علم چندن کمار نے کہا، "حکومت ہمیں اتنی محنت کرنے کے بعد چار سال کی نوکری دینے کا وعدہ کر کے بے وقوف بنا رہی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بھرتی کا عمل پہلے کی طرح ہو جائے۔

جہان آباد میں بھی طلبہ نے جمعرات کی صبح سے ہی ریلوے ٹریک کو بلاک کر دیا۔ مشتعل طلباء نے کہا کہ جب لیڈر کی مدت کار پانچ سال ہے تو ہم چار سال فوج میں کیا کریں گے؟ بہار میں کون سی صنعت ہے جس میں ہم واپس آکر کام کریں گے، ہم پرانا حکمرانی چاہتے ہیں، ہم سے مشورہ کریں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ درست ہے تو ہم اسے قبول کریں گے۔

سب سے زیادہ آتشزدگی کی ویڈیوز بہار کے ضلع سارن سے سامنے آئی ہیں۔ یہاں مشتعل طلباء نے پلیٹ فارم نمبر دو پر کھڑی مسافر ٹرین کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ برونی گونڈیا ایکسپریس کی ایک کوچ کو بھی طلباء نے جلا دیا۔ مشتعل طلباء نے روڈ ویز پر ٹائر جلا کر احتجاج بھی کیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے