English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کراچی: ضمنی انتخاب کے دوران پرتشدد واقعات، 1 شخص جاں بحق اور 8 افراد زخمی

کراچی کے علاقے لانڈھی میں حلقہ این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان پرتشدد واقعات کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے تصدیق کی کہ جاں بحق ہونے والے شخص سیف الدین کلیم کو لانڈھی کے علاقے سے مردہ حالت میں جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لایا گیا تھا جس کے سر پر گولی لگی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والوں میں 18 سالہ ولید قدرت اللہ کے گھٹنے میں گولی لگی تھی، جبکہ محمد ادریس (عمر 30 سال)، خالد چوہان (عمر 42 سال)، سلمان اسلم (عمر 35 سال) اور ذیشان وارث (عمر 34 سال) سمیت دیگر افراد بھی زخمی ہونے شامل ہیں جن کے سر اور دیگر حصوں پر چوٹیں آئیں۔

پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور انتخابی دفتر پر حملہ کیا گیا۔

سلسلہ وار ٹوئٹس میں پی ایس پی نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں پر میڈیا ٹاک کے دوران پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال پر فائرنگ کا الزام عائد کیا، انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے مرکزی رہنما بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایک اور ٹوئٹ میں پی ایس پی کی جانب سے کہا گیا کہ پارٹی کے مرکزی انتخابی دفتر پر اس وقت حملہ کیا گیا جب مصطفیٰ کمال اور پارٹی کے صدر انیس قائم خانی دفتر میں موجود تھے۔

پی ایس پی کی جانب سے متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پی) پر لانڈھی میں مصطفیٰ کمال پر جان لیوا حملہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا۔

پی ایس پی نے دعویٰ کیا ہے کہ ضمنی انتخاب کے دوران پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور انتخابی دفتر پر حملہ کیا گیا—پی ایس پی / ٹوئٹر

پی ایس پی ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں ایم کیو ایم (پاکستان)، الیکشن حکام اور پریزائیڈنگ آفیسر پر ضمنی انتخاب میں دھاندلی کے لیے ملی بھگت کا الزام عائد کیا گیا۔

پی ایس پی ترجمان نے کہا کہ ایم کیو ایم کو اب ٹھپہ اور دھندلی کے ذریعے نہیں جیتنے دیا جائے گا۔

دریں اثنا ایم کیو ایم (پاکستان) کے رکن صوبائی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن نے دعویٰ کیا کہ ضمنی انتخاب کے دوران ان کی پارٹی کے کارکنوں کے خلاف تشدد کے 10 سے زائد واقعات ہوئے۔

مزید پڑھیں: کراچی کے ضمنی انتخاب کا نتیجہ جمہوریت کیلئے افسوسناک ہے، شہباز گل

خواجہ اظہار الحسن نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال میں صاف اورشفاف بلدیاتی الیکشن کس طرح ممکن ہے؟ اسلحہ اٹھانےوالےکارکنوں کوقانون کی گرفت میں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں نےجھگڑے میں ایم کیو ایم کوملوث کردیا، جھگڑا پی ایس پی اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کےدرمیان شروع ہوا، دونوں جماعتوں کےجھگڑے میں ایم کیو ایم کےکارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایاگیا، جھگڑا پی ایس پی اورتحریک لبیک کے درمیان ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تشدد کرنے والے مسلح افراد آزاد گھوم رہے ہیں، صرف ہمارےکارکنوں کوتشددکانشانہ بنایا گیا، ٹی ایل پی کے کارکنوں نے نے پولنگ اسٹیشن پر بھی فائرنگ کی، فائرنگ سےہمارے 8 کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ ہمارے ادارے کی گاڑیوں پربھی فائرنگ کی گئی، تاہم فائرنگ سےکوئی رضاکارزخمی نہیں ہوا۔

ترجمان کراچی پولیس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ انیس قائمخانی کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع کی تصدیق کا عمل جاری ہے، علاقہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، اب تک انیس قائمخانی کی گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تصدیق کے بغیر انتشار کا باعث بننے والی اطلاعات/خبر کی تشہیر سے پرہیز کیا جائے، کراچی پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

خیال رہےکہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ جاری تھی۔

حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

حلقے میں مجموعی طور پر 25 امیدوار میدان میں موجود تھے جن میں ایم کیو ایم پاکستان کے محمد ابوبکر، ٹی ایل پی کے شہزادہ شہباز، پی پی پی کے ناصر رحیم، پی ایس پی کے شبیر احمد قائم خانی اور ایم کیو ایم کے سید رفیع الدین سمیت آزاد امیدوار شامل تھے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) نے حلقے میں پیپلز پارٹی کے حق میں انتخابی عمل سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ اور الیکشن کمشنر کا نوٹس

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے دوران پرتشدد واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی ماحول کو پرامن رکھا جانا چاہیے، تمام سیاسی جماعتوں پرامن رہیں اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کریں۔

الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا اور آئی جی پی اور چیف سیکریٹری سندھ محمد سہیل راجپوت سے اس حوالے سے بات کی۔

انہوں نے آئی جی پی اور چیف سیکریٹری سندھ سے کہا کہ وہ متعلقہ اداروں کو علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کی ہدایات جاری کریں اور جو بھی انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کرے اسے فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

اعجاز انور چوہان نے کہا کہ گنتی کے عمل کے دوران پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

انہوں نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کو بھی ہدایت کی کہ پولنگ کے عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس سلسلے میں کوئی نرمی نہ برتی جائے۔

پی ٹی آئی رہنما علی حیدر زیدی نے کہا کہ این اے 240 میں تشدد دیکھ کر دکھ ہوا، ہم تشدد کی سیاست میں واپس نہیں جا سکتے۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ الیکشن لڑنے والی تمام جماعتیں صبر کا مظاہرہ کریں، ایک بار پھر قانون نافذ کرنے والے ادارے پرامن انتخاب کروانے میں ناکام رہے اور ای سی پی نے ایک بار پھر اپنی نااہلی ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن انتخابات کے انعقاد کا واحد طریقہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر رینجرز کی موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر کا ایس ایس پی کورنگی کو خط

دریں اثنا حلقہ این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے دوران پرتشدد جھڑپوں کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر نے ایس ایس پی کورنگی کو خط لکھا دیا۔

خط میں نشاندہی کی گئی کہ حلقے میں کچھ سنگین اور شدید پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں، جہاں ہوائی فائرنگ، پریزائیڈنگ افسران کے ساتھ جھگڑا اور امن و امان کی خراب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کی وجہ سے شہر بھر میں امن و امان سے متعلق صورتحال گرتی جا رہی ہے۔

ڈی آر او نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے اور صورتحال کو فوری طور پر قابو کیا جائے۔

ایس ایس پی کورنگی کو ڈی آر او کے کیمپ آفس کے لیے فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے بھی کہا گیا جہاں ضمنی انتخاب کے نتائج جمع کیے جائیں گے۔

ایس ایس پی کورنگی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کرانے کے لیے رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے