دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے گزشتہ روز بھارت کے ساتھ تعلقات سے متعلق دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جب کہ موجودہ پالیسی پر قومی اتفاق رائے ہے۔
گزشتہ روز بلاول بھٹو نے ایک بیان دیا تھا جس میں وہ بظاہر بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے وکالت کرتے نظر آرہے تھے۔حکومتی فنڈنگ سے چلنے والے تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی اہم تقریر میں بلاول بھٹو نے بھارت اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مسائل کا شکار قرار دیا تھا۔اپنی تقریر کے دوران وزیر خارجہ نے بھارت کے تعلقات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معاشی سفارت کاری کی جانب توجہ دی جائے اور تعلقات کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے۔بلاول بھٹو نے استدلال کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ اور تنازعات کی طویل تاریخ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات اور اس کے مسلم کش ایجنڈے کے باوجود بھارت کے ساتھ تعطل کا شکار تعلقات پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کے ان بیانات کی سیاق و سباق سے ہٹ کر تشریح کی گئی اور ان بیانات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے بیانات کو تنازعات کے حل کے ان کی تقریر کے بنیادی پیغام کے مجموعی تناظر اور سیاق و سباق میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، انہوں نے تھنک ٹینک کی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران تنازعات کے حل پر زور دیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کا ہمیشہ خواہش مند رہا ہے اور تنازع کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری روابط اور نتیجہ خیز مذاکرات کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی نہ ختم ہونے والی دشمنی، وعدوں سے مکرنے اور حالات کو مزید بگاڑنے والے اقدامات نے ماحول خراب کیا اور امن و تعاون کے امکانات کو روکا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر بھارت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں اس نقطہ نظر اور مقف کو واضح انداز میں بیان کیا تھا۔

