English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت کے ساتھ تعلقات کی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئی، دفتر خارجہ

Foreign Office

دفتر خارجہ نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے گزشتہ روز بھارت کے ساتھ تعلقات سے متعلق دیے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقی پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے جب کہ موجودہ پالیسی پر قومی اتفاق رائے ہے۔

گزشتہ روز بلاول بھٹو نے ایک بیان دیا تھا جس میں وہ بظاہر بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے حوالے سے وکالت کرتے نظر آرہے تھے۔حکومتی فنڈنگ سے چلنے والے تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی اہم تقریر میں بلاول بھٹو نے بھارت اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مسائل کا شکار قرار دیا تھا۔اپنی تقریر کے دوران وزیر خارجہ نے بھارت کے تعلقات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معاشی سفارت کاری کی جانب توجہ دی جائے اور تعلقات کی بحالی پر توجہ مرکوز کی جائے۔بلاول بھٹو نے استدلال کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنگ اور تنازعات کی طویل تاریخ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات اور اس کے مسلم کش ایجنڈے کے باوجود بھارت کے ساتھ تعطل کا شکار تعلقات پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کے ان بیانات کی سیاق و سباق سے ہٹ کر تشریح کی گئی اور ان بیانات کو غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔ وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے بیانات کو تنازعات کے حل کے ان کی تقریر کے بنیادی پیغام کے مجموعی تناظر اور سیاق و سباق میں بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے، انہوں نے تھنک ٹینک کی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران تنازعات کے حل پر زور دیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کا ہمیشہ خواہش مند رہا ہے اور تنازع کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیری روابط اور نتیجہ خیز مذاکرات کی مسلسل حمایت کرتا رہا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی نہ ختم ہونے والی دشمنی، وعدوں سے مکرنے اور حالات کو مزید بگاڑنے والے اقدامات نے ماحول خراب کیا اور امن و تعاون کے امکانات کو روکا ہے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر بھارت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرے۔ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں اس نقطہ نظر اور مقف کو واضح انداز میں بیان کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے