وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہےکہ ترکی اپنی انسانی اور کاروباری خارجہ پالیسی کے ساتھ امن میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔
بوسنیا ہرزیگووینا کے دارالحکومت سرائیو میں اپنی مصروفیات کے دائرہ کار میں چاوش اولو نے بین الاقوامی یونیورسٹی آف سرائیو (IUS) کہ جس کی بنیاد 2004 میں ترکی کے کاروباری افراد نے رکھی تھی کے 14ویں کنووکیشن میں شرکت کی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ یہ یونیورسٹی بوسنیا کے کثیر الاثقافتی ماحول کی نمائندگی کرتی ہے، یہ کثرت ہمیشہ ہماری تعلیمی کامیابیوں کو پروان چڑھائے گی اور ہمارے نظریات کو وسعت دے گی۔
چاوش اولو نے بتایا کہ وقت تیزی سے بہہ رہا ہے اور ہماری دنیا ان طلبا کے جامع میں تعلیم کا آغاز کرنے کے دور سے ابتک کافی بدل چکی ہے۔
اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کمزور گروہوں کو نشانہ بناتی ہے، چاووش اولو نے کہا، ہمارے پڑوس میں جنگ ہو رہی ہے، سرائیوو بھی امن کے کس حد تک اہم ہونے سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہم جنگ کی قیمت کے امن کی قیمت سے کہیں زیادہ بلند ہونے سے واقف ہیں، لہذا ہم انسانی اور مثبت خارجہ پالیسیوں کے ذریعے قیام امن میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکی یوکیرین میں خونریزی کا سد باب کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے، ہم نے دائمہ مذاکرات کے عمل کو سہل بنانے اور ڈپلومیسی کا ماحول قائم کرنے کی کوشش کی ہے، اور یوکیرین کی حاکمیت کے حوالے سے بھی ہمارا موقف واضح اور اٹل ہے۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یوکرین کی جنگ کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، چاووش اولو نے کہا، "امن کے لیے کام کرنا ہماری ذمہ داری ہے، مزید معصوم جانیں ضائع نہ ہونے کے لیے ہمیں اس پر کام کرنا ہو گا۔ ہم نے ہمیشہ شام، لیبیا جنوبی قفقاز اور بلقان میں مستقل اور سیاسی حل کے لیے بات چیت کی حمایت کی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بعض ممالک خطہ بلقان کو اثرو رسوخ کے علاقے کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تا ہم ہمارے لیے یہ خطہ ہمارا ایک جزو ہے، ہم بھی اس کا حصہ ہیں۔
