برلن : جرمنی کی غیر سرکاری امدادی ایجنسی نے کہا ہے کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی سطح پر بھوک کو بڑھارہی ہیں۔
ویلتھنگر ہیلف کے سیکرٹری جنرل میتھیاس موگ نے کہا کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث لاکھوں لوگ قحط کے دہانے پر ہیں، ان بڑھتی ہوئی قیمتوں نے غریب طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔
ادارے کی سالانہ رپورٹ کے مطابق رواں سال روس یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا بھر میں خوراک کی قیمتوں میں فیصد اضافے کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی، دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 811 ملین افراد بھوک کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یمن، افغانستان اور جنوبی سوڈان میں صورتحال کا کافی تشویشناک ہے، مزید برآں، مڈغاسکر اور مشرقی افریقی ممالک شدید متاثر ہوئے ہیں، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر خشک سالی نے موسمیاتی بحران کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے علاوہ حالیہ برسوں میں مسلح تنازعات کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی بھوک کی ایک وجہ ہے، جنگوں کا خوراک کے نظام پر بہت بڑا اثر پڑتا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے اناج کی فروخت پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔
