آج سے ٹھیک 6 سال قبل ترکی کو ایک غدارانہ بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ فیتو نامی دہشت گرد تنظیم نے ترک مسلح افواج کے اندر سرایت کردہ اپنے عناصر کی وساطت سے ہماری مملکت اور ریاستی نمائندہ اقدار کے برخلاف مذموم حملے کیے۔
صدارتی کمپلیکس ، ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی پر بمباری کی گئی؛ ترکی ریڈیو ٹیلی ویژن کارپوریشن سمیت متعدد سرکاری عمارتوں پر باغیوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
انقرہ اور استنبول کے آسمانوں پر جنگی طیاروں اور سڑکوں پر ٹینک کھڑے کرتے ہوئے عوام میں خوف و حراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ترک عوام نے اس صورتحال کا بہادرانہ طریقے سے اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھتے ہوئے سامنا کیا۔
ہزاروں کی تعداد میں ترک شہری صدر ایردوان کی اپیل پر بغاوت اقدام کو دبانے کے زیر مقصد شہری چوکوں، گلی کوچوں میں نکل آئے ، انہوں نے ٹینکوں کے سامنے لیٹتے ہوئے انہیں روکا اور ہیلی کاپڑوں سے کی گئی فائرنگ کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے، انہوں نے ایک بے نظیر مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک و وطن اور ڈیموکریسی کا تحفظ کیا۔
عوام کے عزم و بلند حوصلوں کی بدولت ہماری ریاست نے بغاوت کی کوشش کو کامیابی سے روکا، اس جدوجہد میں 251 ترک شہریوں نے جام ِ شہادت نوش کیا اور سینکڑوں لوگ غازی بنے۔
15 جولائی کے دن نے جمہوریت کی فتح کی علامت حاصل کر لی؛ اور اس دن کو "یومِ ڈیموکریسی و قومی اتحاد” کی حیثیت دی گئی۔
ہم اس اہم یوم پر ہمارے تمام تر شہدا اور غازیوں کو دلی جذبات اور بڑے احترام کے ساتھ یاد کررہے ہیں۔
