صدر رجب طیب ایردوان نے واضح کیا ہے کہ 15 جولائی 2016 میں بغاوت اقدام کی مرتکب دہشت گرد تنظیم فیتو کے بر خلاف جاری ایک داستانی مزاحمت دوست و دشمن کو ترکی کو کبھی بھی اسیر نہ بنا سکنے اور ترک ملت کو ہر گز گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کر سکنے کا بھر پور طریقے سے مظاہرہ کرتی ہے۔
صدر ایردوان نے 15 جولائی یوم ڈیموکریسی و قومی یکجہتی کی مناسبت سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔
جناب ایردوان نے اپنے پیغام میں کہا کہ "یک دل یک جان کے طور پر باغیوں کے خلاف ہماری تاریخی مزاحمت ، دوست و دشمن کو ترکی کو کبھی اسیر نہ بنا سکنے اور ہر گز ترک قوم کو سر جھکانے پر مجبور نہ کر سکنے کا واضح پیغام ہے۔
صدر نے اس بات پر زور دیا کہ 15 جولائی کا بغاوت اقدام ریاست اور قوم پر سب سے زیادہ گھناؤنے حملوں میں سے ایک تھا ، بغاوت سے تباہ نہ کیے جا سکنے والے ترکی کو اب معیشت کے حربوں کے ساتھ گھٹنے ٹیکنے کے لیے مجبور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ” زبردستی کرنے سے اپنے قبلے کو نہ بدلنے والے، بغاوتوں سے حوصلے پست نہ ہونے والے، دہشت گردی سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہ کیے جانے والے ترکی پر معیشت کے ذریعے اپنے زیر تسلط لینے کو ہم نے تو قبول کیا ہے اور نہ ہی کریں گے۔افراط زر نہ صرف ترکی بلکہ اسوقت دنیا بھر کامشترکہ مسئلہ ہے۔ انشااللہ ایک طویل عرصے کی طرح ہم اس اتار چڑھاو سے نجات پانے والے ممالک میں سر فہرست ہوں گے اور اس طرح15 جولائی کے دوام کی نظر سے دیکھے جانے والی اس مصیبت سے چھٹکارا پاتے ہوئے عظیم اور طاقتور ترکی کی نشاط کی راہ میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔”
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بغاوت کی کوشش کے آغاز کے ساتھ ہی بلا کسی ہچکچاہٹ کے، ٹینکوں، ہوائی جہازوں، ہیلی کاپٹروں، بیرلوں کی ڈھال کے طور پر سڑکوں اور چوکوں کو اپنے جسموں سے بھر دینے والے اس قوم کے نوجوانوں اور بچوں کی عظمت و جرات کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کافی نہیں ہوں گے۔
” 15 جولائی کی رات جب بغاوت کی کوشش ہوئی تو ہم نے اپنی جان کی قیمت پر اپنی جمہوریہ اور ان تمام کامیابیوں کا دفاع کیا۔”
15 جولائی جمہوری پہرہ جاری ہونے کا ذکر کرنے والے ترک صدر نے کہا کہ "ہمارے ماضی کی شاندار ترین فتوحات میں سے ایک 15 جولائی کو اپنے ذہنوں میں بھر پور طریقے سے نشین کرنے کے لیے منعقدہ سرگرمیوں میں 9 نئے منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا جانا اس پہرے کے جاری ہونے کا اشارہ ہے۔”
