ڈالر سستا ہونے کے بجائے مزید مہنگا کیےجانے کا سلسلہ جاری ہے. کاروبار کے پہلے روز ہی ڈالر نے جمپ لگا کے
215 روپے پر پہنچ گیا. تجربہ کار اتحادی حکومت کے وزیر خزانہ مفتح اسماعیل اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب
قوم کو خوشخبریاں دے رہی تھیں یہ تو سب کچھ الٹ ہو رہا ہے.
مفتح اسماعیل نے کہا تھا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا جلد قرضہ مل جائے گا. اسی طرح موخر ادائیگی پر پیٹرول بھی
ملے گا. دوست ممالک مزید 4 ارب ڈالر تک بینکوں میں رکھیں گے. اسٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاری ہوگی.
تاجر برادری روزآنہ روپے کی بے قدری کی وجہ سے پریشان ہیں. ایکسپورٹرز کو بھی سودوں میں پریشانی کا سامنا
ہے. تاجروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک سازش کے تحت ڈالر کو اوپر لے جایا جارہا ہے.
اصولی طور پر آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے اور اور اربوں ڈالر جلد متوقع ہیں تو پھر کوئی ایسا انڈیکیٹر نہیں کہ
ڈالر کی قیمت نیچے نہ آئے.
