کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان اس عزم کی تجدید کے ساتھ منارہے
ہیں کہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی اورجموں و کشمیر کے پاکستان میں مکمل انضمام تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔
بھارتی تسلط سے جموںوکشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کیلئے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران تقریبا 5لاکھ
سے زائدکشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے۔ 19 جولائی 1947 ء کو آبی گزر سرینگر میں سردار محمد
ابراہیم خان کی رہائش گاہ پرا ل جموں وکشمیرمسلم کانفرنس کے اجلاس میں تاریخی قرارداد پاس کی گئی جس میں
جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرنے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کی صدارت چوہدری حمید اللہ خان نے کی اور قرارداد خواجہ غلام الدین وانی اور عبدالرحیم وانی نے پیش کی تھی
59ممتاز رہنماوں نے اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اس تاریخی قرارداد میں کہاگیاتھاکہ پاکستان کے ساتھ جموں و کشمیر کی
مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی قربت اور کشمیری مسلمانوں کی خواہشات کو مدنظر رکھ کرپاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ
کیاگیا ہے۔
No related posts.
