وزیراعظم میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز نے پنجاب کی وزارت اعلی کا جمعہ کی رات ہی فوری
حلف اٹھالیا اب سوال یہ پیدا ہورہا ہے کہ وہ کب تک تخت لاہور پر بیٹھے رہیں گے؟
اس مرتبہ بھی ان کی پرویز الہی پر سبقت محض 3 ووٹوں کی ہے. سیاست میں کوئی بھی بیان یا معاہدہ حرف
آکر نہیں ہوا کرتا اسی لیے کچھ بھی کہنا حتمی نہیں ہوتا.
گزشتہ شب گورنر ہاؤس لاہور میں نئے جوش و ولولے کے ساتھ تقریب ہوئی اور ن لیگ کے گورنر پنجاب
بلیغ الرحمان نے حمزہ شہباز سے حلف لیا. تقریب میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنما ایک دوسرے کو
جھپیاں ڈال کے انہونی کو ہونی بنانے پر شکریہ ادا کرتے رہے.
اس موقع پر پاکستان میں سیاسی بازی گری کے بادشاہ آصف علی زرداری کے حق میں نعرے لگائے جاتے
رہے “ایک زرداری سب پر بھاری”، اسی طرح نواز شریف کے لیے بھی نعرے لگتے
وزارتِ اعلیٰ کے لیے پرویز الٰہی نے 186 اور حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے تھے لیکن ڈپٹی اسپیکر دوست محمد
مزاری نے مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ کو شمار نہیں کیا۔ شمار نہ کرنے کی وجہ چوہدری شجاعت حسین کا وہ خط
تھا جس میں انہوں نے اپنے اراکین اسمبلی کو رائے شماری میں حصہ لینے سے منع کیا تھا
. چوہدری شجاعت حسین کو سابق صدر آصف علی زراری نے تین ملاقاتوں کے بعد خط لکھنے پر آمادہ کیا تھا.
اب دیکھنا یہ ہے کہ حمزہ شہباز کب تک اپنے آُپ کو تخت لاہور سے جڑا رکھتے ہیں. جتنی دیر تک حمزہ وزیراعلی
رہیں گے اتنا ہی مرکز بھی مضبوط رہے گا اور ملک میں سیاسی استحکام پیدا ہو گا.
