ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی پُر یقین قدموں کے ساتھ نہ صرف، 2023 میں، لوزان امن سمجھوتے اور جمہوریت کی 100 ویں سالگرہ کی طرف بڑھ رہا ہے بلکہ علاقائی و گلوبل مسائل میں بھی اپنی موئثر حیثیت کو تقویت دے رہا ہے”۔
صدر ایردوان نے لوزان سمجھوتے کی 99 ویں سالانہ یاد کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
پیغام میں صدر ایردوان نے کہا ہے کہ آج ترکی کی بانی دستاویزات میں سے لوزان امن سمجھوتے کی 99 ویں سالگرہ ہے۔ لوزان سمجھوتے نے ہماری زمینی سرحدیں کھینچیں، مشروط اطاعت کا خاتمہ کیا، یونان میں رہ جانے والی ترک اقلیت کے حقوق کو ضمانت میں لیا اور ہمارے ساحلوں سے قریب یونانی جزائر کی غیر عسکری حیثیت کی تصدیق کی۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی، پہلے دن سے لے کر 99 سالہ عرصے میں، سمجھوتے کے اطلاق پر نہایت حساسیت سے نگاہ رکھے ہوئے ہے لیکن یونان کی طرف سے خاص طور پر حالیہ دنوں میں ترک اقلیت کے حقوق کی سلبی سمیت سمجھوتے میں درج شرائط سے لاپروہی برتی جا رہی اور انہیں شعوری شکل میں غیر موئثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ترکی کا، اچھے ہمسایہ تعلقات اور سمجھوتے کی پابندی سے غیر ہم آہنگ، اس صورتحال کو قبول کرنا ناممکن ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہمارا ملک اپنے علاقے میں پائیدار امن و امان کے قیام کے لئے ہر طرح کی کوششیں کر رہا ہے اور ہماری عزیز ملت اپنے حقوق کے دفاع کے معاملے میں پُر عزم ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی پُر یقین قدموں کے ساتھ نہ صرف، 2023 میں، لوزان امن سمجھوتے اور جمہوریت کی 100 ویں سالگرہ کی طرف بڑھ رہا ہے بلکہ علاقائی و گلوبل مسائل میں بھی اپنی موئثر حیثیت کو تقویت دے رہا ہے۔ میں، لوزان امن سمجھوتے کی 99 سالگرہ کے موقع پر جمہوریہ ترکی کے بانی غازی مصطفیٰ کمال اتاترک، ان کے مسلح ساتھیوں اور عزیز شہیدوں کو، حق تعالی سے، رحمت و مغفرت کی دعا کے ساتھ اور غازیوں کو احترام اور جذبہ احسان مندی کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔
