English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مغربی تھریس کے ترکوں کے لیڈر: ڈاکٹر صادق احمد

القمر

آج ڈاکٹر صادق احمد کی 27 ویں برسی ہے۔ وہ مغربی تھریس کی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر مبنی لوزان امن سمجھوتے کی 73 سالانہ یاد کے موقع پر 24 جولائی 1995 کو مشکوک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئے تھے۔

صادق احمد 1947 کومغربی تھریس کے صوبے ‘گومل جینے ‘کے گاوں  ‘سِرکے لی’ میں پیدا ہوئے۔

انقرہ اور سیلانیک میں شعبہ طب میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد بحیثیت ڈاکٹر 1978 میں اپنے کنبے کے پاس واپس لوٹ گئے۔

1985 میں انہوں نے مغربی تھریس کے ترکوں کی آواز بین الاقوامی رائے عامہ تک پہنچانے کے لئے ایک دستخط مہم شروع کروائی اور اس مہم کی وجہ سے انہیں قید و بند کی صعوبت برداشت کرنا پڑی۔

صادق احمد یونان کے،’ ترک اقلیت’  کی اصطلاح کی بجائے ‘مسلمان اقلیت’ کی اصطلاح قبول کرنے اور شہریت قانون کی 19 ویں شق کو بہانہ بنا کر ہزاروں افراد کو شہریت سے خارج کرنے  اور اس جیسے متعدد مسائل پر نگاہ رکھے ہوئے تھے۔

وہ 1989 میں یونان کے عام انتخابات میں مغربی تھریس کی ترک آبادی کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے پہلے آزاد امیدوار تھے لیکن منتخب ہونے سے چند ماہ بعد ان کی ممبر شپ منسوخ کر دی گئی۔

1990 میں اپنی تقریروں میں اقلیت کے لئے ‘ترک’ کا لفظ استعمال کرنے پر انہیں  گرفتار کر کے 2 ماہ کی سزائے قید سنا دی گئی۔

اسی سال صادق احمد دوسری دفعہ اسمبلی ممبر منتخب ہوئے اور 1991 میں مغربی تھریس کے ترکوں کی واحد سیاسی نمائندہ پارٹی ‘دوستی، مساوات اور امن پارٹی’ کی بنیاد رکھی۔

ڈاکٹر صادق احمد مغربی تھریس کی ترک اقلیت کے حقوق کے تحفظ پر مبنی "لوزان امن سمجھوتے” کی 73 ویں سالانہ یاد کے موقع پر 24 جولائی 1995 کو 48 سال کی عمر میں مشکوک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے