کراچی کے علاقے کلفٹن میں “کے پی ٹی انڈر پاس” بارش کا پانی بھرنے کی وجہ سے 10 دن میں
دوسری بار ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھر میں انڈر پاس بنائے جاتے ہیں۔ تعمیر سے
پہلے پانی کےنکاس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
انڈر پاس کا مطلب زمین کی سطح سے یہ نیچے ہوتا ہے اور پانی ہمیشہ نشیب کی طرف جاتا ہے۔ اسی
لیے سب سے پہلے پانی کے نکاس کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کو مسائل کا سامنا نہ
کرنا پڑے۔
بدقسمتی سے پاکستان کا کوئی سا بھی شہر لے لیں سب جگہ سڑکیں ہوں یا پل اور انڈر پاس ان کی تعمیر انتہائی
ناقص ہوتی ہے۔ باالخصوص کراچی کی سڑکوں ، پل اور انڈرپاسز کا حال بہت ہی برا ہے۔ ایک ہی بارش میں
سڑکوں کی استر کاری ادھڑ جاتی ہے۔
170 ملین روپے کی لاگست سے تین تلوار اور دو تلوار کے درمیان شون چورنگی پر یہ زیرزمین راستہ 2005
میں تعمیر کیا گیاتھا۔ اس وقت ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر بابر خان غوری نے یکم اکتوبر 2005 کو اس کا افتتاح
کیا تھا۔ 550 میٹر لمبے اس انڈر پاس (زیرزمین) راستے کا کریڈٹ تو ایم کیو ایم لیتی ہے لیکن اس کی ناقص
منصوبہ کی زمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ دنیا کے شائد ہی کسی ملک میں ایسا ہوتا ہو اپنے کک بیکس اور کمیشن کے نام پر
منصوبے بنائے جاتے ہوں۔ بدقسمتی سے پاکستان اور باالخصوص کراچی میں ان مثالوں کی کمی نہیں۔ کلفٹن
کا کے پی ٹی انڈر پاس اس کی واضح مثال اور دلیل ہے۔ہر بار بارش میں بند کر دیا جاتا ہےلیکن اس کا
مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا۔
شہریوں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ خدارا انجنیئر سے رابطہ کرکے اس کی بہتری کے لیے کوئی حل
نکالا جائے۔ دنیا بھر کے موسم میں بہت زیادہ تبدیلیاں آچکی ہیں اور کراچی میں مسلسل بارشوں کی پیش
گوئیاں کی جارہی ہیں۔ لہذا کسی سانحہ سے پہلے اس کا مستقل بنیادوں پر مسئلہ حل کیا جائے۔
No related posts.
