پاکستان کے قریبی دوست ممالک نے مزید قرضہ دینے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں پہلے کبھی
قرضہ لے کے واپس نہیں کیا اور کیسے دے دیں؟۔
اس بات کا اعتراف وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کاکہنا ہے کہ بار بار
سعودی عرب سے قرضہ مانگنا بھی اچھا نہیں، آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر چھٹیوں پر ہونے کی وجہ سے
حتمی بات چیت میں تاخیر ہورہی ہے۔ ڈالرز آنے میں ابھی مزید چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کئی روز کی خاموشی کے بعد ساتھ ہی انکشاف کیا کہ ڈالرز کی آمد جلد شروع ہونے والی
ہے جس کے بعد ڈالر پر دباؤ میں کمی آجائے گی۔
دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 239 روپے تک جاپہنچا ہے اور بدقسمتی سے کسی کو اس کی پروا نہیں
سب اپنی اپنی حکومتوں اور وزارتوں کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔
عام عوام کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کی بے قدری اور ملک میں سیاس عدم استحکام سے سازش کی بوآرہی
ہے خدانخواستہ کہیں سب ہی اندرون کانہ ملے ہوئے تو نہیں ہیں؟
