English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پی ٹی آئی پر غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو گئی، عمران خان کا بیان حلفی جھوٹا ہے: الیکشن کمیشن

القمر

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 2014 سے زیرالتوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 20 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ آج چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بینچ سنا رہا ہے۔

فیصلے میں چیف الیکشن کمیشنر کی جانب سےکہا گیا کہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے۔

الیکشن کمیشن کے متفقہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈ لیے ہیں، 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے لیکن پی ٹی آئی ان اکاؤنٹس کے بارے میں بتانے میں ناکام رہی، آئین کے مطابق اکاؤنٹس چھپانا غیر قانونی ہے، پی ٹی آئی نے 34 غیر ملکیوں سے فنڈ لیے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو ابراج گروپ سمیت غیر ملکی کمپنیوں سے فنڈنگ موصول ہوئی۔ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن میں مس ڈیکلیریشن جمع کرایا۔ پی ٹی آئی چیئرمین کا سرٹیفکیٹ غلط تھا۔ عمران خان کے بیان حلفی میں غلط بیانی کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے جمع کروایا گیا بیان حلفی جھوٹا ہے۔

فیصلے کے اہم نکات

  • ثابت ہوا کہ پی ٹی آئی نے ممنوعہ فنڈ لیے ہیں
  • 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے
  • امریکا، آسٹریلیا اور یو اے ای سے عطیات لیے گئے
  • پی ٹی آئی ان اکاؤنٹس کے بارے میں بتانے میں ناکام رہی
  • آئین کے مطابق اکاؤنٹس چھپانا غیر قانونی ہے
  • پی ٹی آئی نے 34 غیر ملکیوں، 351 کاروباری اداروں اور کمپنیوں سے فنڈز لیے
  • سیا سی جماعتوں کے ایکٹ کے آرٹیکل 6 سے متعلق ممنوعہ فنڈنگ ہے
  • عمران خان نے فارم ون جمع کرایا جو غلط بیانی اور جھوٹ پر مبنی ہے
  • پارٹی اکاؤنٹس سےمتعلق دیا گیا بیان حلفی جھوٹا ہے

فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کو ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔

غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے پی ٹی آئی کو ملنے والے فنڈز کی فہرست

دوسری جانب پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) کے خلاف 2 صوبائی اسمبلیوں سے قراردادیں منظور کروانے کے بعد ان کے استعفے کے مطالبے کے لیے 4 اگست کا اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سنایا جا رہا ہے جب 20 جون کو الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم میں تیزی آئی اور حال ہی میں فنانشل ٹائمز میں ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح برطانیہ میں ایک چیریٹی کرکٹ میچ کے ذریعے جمع ہونے والے 20 لاکھ ڈالر پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں آئے اور اس عمل میں بزنس ٹائیکون عارف نقوی کا کیا کردار رہا۔

دریں اثنا پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے آج اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں کے فیصلے ہیں کہ تینوں جماعتوں کے کیسز کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے لیکن الیکشن کمیشن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے فنڈنگ معاملات کو دیکھنے کی زحمت نہیں کر رہا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج کوئی آسمان نہیں ٹوٹنا، سیاسی فیصلے الیکشن کمشنر نہیں عوام نے کرنے ہیں، اصل فیصلہ عوام کا ہوگا’۔

 

ممنوعہ فنڈنگ کیس کا پس منظر

پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی جانب سے دائر کیا گیا یہ کیس 14 نومبر 2014 سے زیر التوا تھا ، اکبر ایس بابر نے پاکستان اور بیرون ملک سے پارٹی کی فنڈنگ میں سنگین مالی بے ضابطگیوں کا الزام عائد کیا تھا، تاہم عمران خان اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے اس حوالے سے کسی بھی غیر قانونی کام کی تردید کی جاتی رہی ہے جن کا یہ مؤقف ہے کہ مذکورہ فنڈنگ ممنوعہ ذرائع سے نہیں ہوئی۔

مارچ 2018 میں ایک ماہ کے اندر پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی نے بالآخر 4 سال بعد 4 جنوری کو اپنی رپورٹ جمع کروائی، اس مدت کے دوران اس حوالے سے تقریباً 95 سماعتیں ہوئیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے طلب کیے گئے ریکارڈ کی 8 جلدوں پر مبنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پی ٹی آئی قیادت نے بھارتی شہریوں اور بیرون ملکی کمپنیوں سمیت دیگر غیر ملکیوں سے ذرائع آمدن اور دیگر تفصیلات کے بغیر لاکھوں ڈالرز اور اربوں روپے جمع کرکے فنڈنگ قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں سے فنڈنگ حاصل کی اور فنڈز کے اصل حجم اور درجنوں بینک اکاؤنٹس کو چھپایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے