اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں ناقابل بیان ہیں۔ کئی بستیاں برباد ہوگئیں۔ سینکڑوں انسانی جانیں لقمہ اجل بن گئیں، بہت سے مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے۔ آفت کی یہ گھڑی آزمائش کا وقت ہے ہم سب کو بلوچستان کے لوگوں کی دل کھول کر مدد کرنی چاہیے۔
حکومت بلوچستان کے پاس جو وسائل ہیں وہ تو لوگوں کی مدد کیلئے استعمال ہو رہے ہیں ، وفاقی حکومت کوبھی بڑا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مسلح افواج کے جوان ہمیشہ کی طرح سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مدد کر رہے ہیں مگر اس دوران سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑوں نے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے اراکین پر خوب تنقید کی۔ اگر کوئی وزیر کھانا کھاتا نظر آیا تو یہ کہا گیا کہ وزیر صاحب تو کھانا کھا رہے ہیں، اگر وزیر اعلیٰ نے پانی پی لیا تو کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ تو پانی پی رہا ہے۔
کسی کو خیال نہ آیا کہ یہ انسانی ضروریات ہیں، زندگی کو برقرار رکھنے کیلئے کھانا بھی کھانا پڑتا ہے اور پانی بھی پینا پڑتا ہے۔ جب تنقید کا محاذ گرم تھا تو ایسے میں حکومت بلوچستان کی ترجمان فرح عظیم شاہ نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کی ۔ اس پریس کانفرنس میں فرح عظیم شاہ نے سیلاب کےساتھ ساتھ ایک اور بات بھی کر ڈالی بس یہی بات سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑوں کو پسند نہ آئی۔
ناپسندیدگی کی وجہ پاکستان سے محبت ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ان کرداروں پر تنقید کی گئی تھی جو ہمیشہ مسنگ پرسنز کا رونا روتے ہیں۔ دراصل فرح عظیم شاہ پریس کانفرنس میں ظہیر نامی آدمی کا ذکر لے آئی تھیں، ظہیر نامی شخص چند ماہ ایرانی جیل میں رہا اور یہاں بہت سے لوگ اسے مسنگ پرسنز میں شامل کرکے ریاست اور ریاستی اداروں پر تنقید کرتے رہے۔
یہ ایک کڑوا سچ تھا جو فرح عظیم شاہ نے بول دیا۔ اس پریس کانفرنس کے بعد مسنگ پرسنز کے نام نہاد ہمدرد جاگ گئے اور خاص طور پر بیرونی دنیا میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے فرح عظیم شاہ کو ہدف تنقید بنایا۔ لوگوں نے فرح عظیم شاہ کی گفتگو پر بات کرنے کے بجائے ان کی شخصیت پر باتیں بنانا شروع کردیں۔ ان سب باتوں کے باوجود بلوچستان حکومت کی اس بہادر ترجمان نے ٹی وی چینلز کا سامنا کیا، مختلف پروگراموں میں جا کر بلوچستان کی بات کی اور بلوچستان کو درپیش مسائل کا تفصیل سے تذکرہ کیا۔ لیکن یہاں قابل افسوس بات یہ ہے کہ ہمارے بعض دوستوں نے تصویر کا ایک رخ پیش کیا، کاش وہ دوسرا رخ بھی پیش کرتے۔
جائز تنقید ضرور کرنی چاہیے مگر حقائق کو جانے بغیر تنقید کرنا درست نہیں۔ سوشل میڈیا پرباتیں بنانے والوں کو کیا معلوم کہ فرح عظیم شاہ نے مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان سے محبت کی ہے۔ یہ خاتون پہلی مرتبہ 2002ء میں بلوچستان اسمبلی کی رکن بنیں، اسمبلی کے اکثر اجلاسوں میں فرح عظیم شاہ کی تقریروں کا محور و مرکز بلوچستان کے ساتھ ساتھ پاکستان ہوتا تھا۔ پاکستان سے ان کی یہ محبت باغیوں کو پسند نہ آئی تو انہوں نے ایک اور حل تلاش کیا پھر انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے دروازے اس خاتون کے لئے بند کر دیئے۔
جتنی بھی علاقائی جماعتیں تھیں ان کے رہنما باغیوں سے گھبراتے تھے اسی لئے وہ اس متحرک خاتون کو نظر انداز کرتے رہے مگر قلات کی رہنے والی اس خاتون نےبھی نظر اندازی کا حل ڈھونڈلیا۔ اس نے ’’ایمان پاکستان‘‘ کے نام سے ایک سماجی تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے ذریعے وہ بلوچستان کے چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہات میں چلی گئی، وہاں کے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو یہ بتانا شروع کیا کہ پاکستان ایک عظیم نعمت ہے اور بلوچستان کی خوبصورتی میں خوشحالی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اپنے وطن سے محبت کریں گے۔ اس نے برس ہا برس اس تبلیغ میں گزار دیئے۔ یہ تبلیغ باغیوں کو اچھی نہیں لگتی۔ اب جب کئی برسوں کی ریاضت کے بعد فرح عظیم شاہ حکومت بلوچستان کی ترجمان بنی تو اس بات کا سب سے زیادہ دکھ باغیوں کو ہوا۔
اس دکھ کے مداوے کے لئے وہ سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اپنی ہی بلوچستانی بہن پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھر پور تنقید کروا رہے ہیں۔یہاں باغیوں کے لئے بھی بڑا اہم سوال ہے کہ جو خاتون گولیوں سے نہیں ڈرتی، جس کا ایمان ہے کہ موت اپنے مقررہ وقت پر آئے گی، بھلا ایسی خاتون سوشل میڈیا کی تنقید سے کیوں گھبرائے گی ۔ جہاں تک فرح عظیم شاہ کا تعلق ہے تو میں اسے کم و بیش سولہ سترہ سال سے جانتا ہوں وہ اس تنقید سے پریشان نہیں ہوں گی اور نہ ہی اپنے راستے سے ہٹیں گی، ان کی تنظیم کا نام ’’ایمان پاکستان‘‘ ہے اور وہ واقعی پاکستان سے ایمان کی حد تک محبت کرتی ہیں، اس عظیم وطن سے محبت کرنے والوں پر جب بھی کوئی تنقید کرے تو مجھے صادق حسین شاہ کا یہ شعر بے اختیار یاد آ جاتا ہے کہ ؎
تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
منبع: جیو نیوز
The post بلوچستان کی موجودہ صورتحال appeared first on شفقنا اردو نیوز.
