English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا گرینڈ ڈائیلاگ ہی پاکستان کی بقا ہے؟ شفقنا تجزیہ

القمر
پاکستان کا سیاسی بحران شدید، گرینڈ ڈائیلاگ نہ ہوا تو بڑا نقصان ہوگا، حکومتی اتحادی
حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء ایک میز پر بیٹھ سکتی ہیں تو پاکستان میں حکومت و اپوزیشن کیوں نہیں ؟
سابق وزیر داخلہ نے بحران کے خاتمے کے لئے دو حل تجویز کردیئے
سیاست میں دروازے بند نہیں کئے جاتے، آج نوابزادہ نصر اللہ بہت یاد آرہے ہیں، آفتاب خان شیرپاؤ
اسلام آباد ( شفقنا نیوز ) حکومتی اتحادی، پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما ، قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کہتے ہیں سیاسی حالات کے ساتھ ملکی اقتصادی حالات جس نہج پر آج پہنچ گئے ہیں وہ انتہائی تشویشناک امر ہے جب کہ جس طرح سے سیاسی تناؤ اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے اسے نیچے لانے کی ضرورت ہے اور اس کا واحد حل گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ اور میثاق معیشت ہے، بصورت دیگر حالات بگڑے تو سب کا نقصان ہوگا – "شفقنا نیوز” نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ اگر بنگلہ دیش میں ایک دوسرے کی شدید ترین دشمن حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء معیشت پر ایک ساتھ بیٹھ سکتی ہیں تو پاکستان میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہے۔
دیگر بہت سی مثالیں ہیں جہاں مختلف نظریات کی جماعتیں شدید اختلافات کے باوجود ملکی سلامتی کے لئے یکجا ہوتی ہیں- آفتاب شیرپاؤ کا مزید کہنا تھا کہ ٹینشن بہت حد تک بڑھ چکی ہے جسے کم کرنے کی ضرورت ہے، ایک سوال پر بولے ہمیشہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے جہاں سے حل نکلتا ہے، سیاست میں دلائل کے ساتھ لچک بھی ضروری ہے، باہمی مشاورت کے لئے سب سے بہترین فورم پارلیمنٹ ہاؤس ہے مگر عمران خان پہلے ہی اس کو خیرباد کہہ چکے ہیں اگر وہ موجود رہتے تو کم از کم میثاق معیشت ہوجاتا-
ایک اور سوال پر کہاکہ معیشت کا گراف عمران خان کے چار سال کے دود میں کبھی اوپر نہیں آیا بلکہ وہ نچلی سطح پر رہا اور اب مخلوط حکومت کے قیام کے بعد بھی یہ گراف نہیں بڑھ رہا، حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ معیشت کو سنبھالا دینا اور ملک میں سیاسی استحکام لانا ہے کیونکہ اس صورتحال کا اثر ملک کی اقتصادی صورتحال کے ساتھ ساتھ عام آدمی پر براہ راست پڑھ رہا ہے غریب آدمی کے لئے دو وقت کا کھانا انتہائی مشکل ترین ہوچکا ہے – ایک اور سوال پر انکا کہنا تھا کہ جب تک ہم معیشت پر سیاست بند نہیں کریں گے اور معاشی امور پر سیاست کا موضوع ختم نہیں کرتے اس وقت تک ملک آگے نہیں بڑھ سکے گا اب یہ اقدام اٹھانا لازم ہے بصورت دیگر مزید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا – سیاسی تناؤ میں گرینڈ ڈائیلاگ کون کرے؟ کیسے ہوگا ؟ کیا آج نوابزادہ نصراللہ کی کمی محسوس نہیں ہورہی ؟
جس کا جواب دیتے ہوئے آفتاب شیرپاؤ بولے نوابزادہ صاحب ہوتے تو شائد یہ سیاسی بحران جنم نہ لیتا مگر اب بھی ملک میں بہت سی بڑی سیاسی شخصیات موجود ہیں جو معاملات کو سدھارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں اس معاملے پر چاہے پی ٹی آئی و دیگر اپوزیشن ہو یا موجودہ حکمران اتحاد، جانبین کو ایک فورم تشکیل دینا ہوگا جس پر اعتماد کرکے نیشنل ڈائیلاگ کو آگے بڑھائیں ورنہ ان حالات میں الیکشن ہوئے تو اس سے حل نہیں نکلے گا بلکہ یہ مزید مسائل کو جنم دینے کے مترادف ہوگا- ایک اور سوال پر بولے پی ٹی آئی والے تو کہتے ہیں الیکشن کرائیں مگر انتہائی قابل تشویش اقتصادی صورتحال کو کیا نگران سیٹ اپ سنبھال پائے گا ؟
اس طرح معاشی صورتحال مزید بگڑ جائیگی اس لئے پہلا آپشن نیشنل گرینڈ ڈائیلاگ اور دوسرا آپشن حالات کچھ معمول پر آنے کے بعد شفاف انتخابات ہیں اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو اس سے مضر اثرات مرتب ہونگے، ایک اور سوال پر کہاکہ الیکشن کمیشن کا فارن فنڈنگ کیس  کا فیصلہ بھی سنا دیا ہے  اور اب دیکھنا ہے کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آ۔خر میں انہوں نے کہاکہ سیاست میں شائستگی، احترام اور لچکدار رویہ انتہائی ضروری ہے بصورت دیگر یہ معاشرت کو مزید تقسیم کرنے کا باعث بنے گا –
انتظار حسین
پیر، 2 اگست 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com

The post کیا گرینڈ ڈائیلاگ ہی پاکستان کی بقا ہے؟ شفقنا تجزیہ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے