وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ پاک فوج کے زیر ملکیت تمام کاروبار ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ عسکری بینک NBP یا HBL کے برابر ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اسی طرح فوجی فرٹیلائزر اینگرو یا فاطمہ فرٹیلائزر کے برابر ٹیکس ادا کرتا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ چھوٹے تاجروں سے مقررہ ٹیکس ختم کر دیا جائے گا۔ میں نے ٹیکس کے ڈھانچے میں دو غلطیاں کی ہیں اس لیے اسے تبدیل کرنا پڑا۔ اب ہم قدر کی بنیاد پر ٹیکس وصول کریں گے اور پچھلے سال صرف 6 ارب روپے کے مقابلے 27 ارب روپے جمع کریں گے۔
All Army-owned businesses are taxes. For instance, Askari bank pays tax at the same rate as NBP or HBL. Similarly Fauji Fertiliser pays tax at the same rate as Engro or Fatima Fertiliser.
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) August 12, 2022
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے پاس جائیداد پر ٹیکس لگانے کی صلاحیت کس طرح کم ہے۔ ہم چیزوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ پشاور BRT لاہور میٹرو کی لاگت سے 4 گنا لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا۔ عمران خان کرپشن کی تحقیقات رکوانے عدالت کیوں گئے؟ وہ وہاں کی کرپشن کا پتہ کیوں نہیں لگانا چاہتے تھے؟
1) The fixed tax from small traders will be removed. I made a couple of mistakes in the tax structure and hence have to change it. We will now be collected taxes on an ad valorem basis and collect Rs 27 bn compared to only Rs 6 bn last year. So a 350% increase. https://t.co/muxImesQlA
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) August 12, 2022
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عثمان بزدار نے پنجاب میں سیمنٹ پلانٹس کے لائسنس فروخت نہیں کیے؟ کیا بزدار پنجاب میں بڑے پیمانے پر اور مسلسل کرپشن میں ملوث نہیں تھے؟ کیا عمران خان کو اس کا علم نہیں تھا؟ کیا انہوں نے اسے فعال نہیں کیا تھا؟
