برطانوی مصنف سلمان رشدی کے ایجنٹ کا کہنا ہے کہ ان کی صحت کے متعلق خبریں اچھی نہیں ہیں اور ان کی حالت تشویشناک ہے، وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور بول نہیں پا رہے ہیں۔
ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے ایک بیان میں کہا کہ ’مصنف سلمان رشدی پر سٹیج پر تقریب کے دوران حملہ کیا گیا، اور اب وہ وینٹی لیٹر پر ہیں اور بولنے سے قاصر ہیں۔ ان کی ایک آنکھ بھی ضائع ہو جانے کا امکان ہے۔‘
ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے کہا کہ ’سلمان رشدی ممکنہ طور پر ایک آنکھ سے محروم ہو جائیں گے، ان کے بازو کے اعصاب کٹے ہوئے تھے، اور ان کے جگر میں چھرا گھونپ کر نقصان پہنچایا گیا تھا۔‘
سلمان رشدی پر امریکی ریاست نیویارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو سے حملہ کیا گیا اور ان کی گردن اور پیٹ پر وار کیے گئے۔
نیو یارک پولیس کے مطابق اس حملے میں سلمان رشدی کی گردن اور پیٹ میں کم از کم ایک ایک بار چھرا گھونپا گیا، جس کے بعد ان کو پیلی کاپٹر کے ذریعے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اس حملے کو روکنے کی کوشش کرنے والے ہینری ریس کو بھی سر پر معمولی چوٹ آئی ہے۔ ان کے ادارے نے ہی اس تقریب کا اہتمام کیا تھا۔
اس تقریب میں موجود ایک آرٹسٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح سے تقریب کی ریہرسل معمول کے انداز میں چل رہی تھی۔ انھوں نے کہا کہ حملے کے بعد سے تقریب کے مقام کا لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔
متنازع کتاب ’مذہب: شیطانی آیات، کے مصنف
سنہ 1988 میں مصنف سلمان رشدی کی کتاب میں اسلام پر تنقید کی گئی تھی اور اِس کی وجہ سے اِن کے سر پر لاکھوں کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔
اُن کے ناول دی سیتانک ورسز ’شیطانی آیات‘ کی وجہ سے مسلم دنیا میں فسادات پھوٹ پڑے تھے۔
اُس وقت ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے فتویٰ دیا تھا، جس کے تحت سلمان رشدی کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
اِس سے قبل کسی بھی ناول یا کتاب کی وجہ سے عالمی سفارتی بحران پیدا نہیں ہوا تھا اور نہ ہی کسی حکومت کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے شہری کے قتل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
اب بھی پاکستان اور دیگر بہت سے ممالک میں سلمان رشدی کی کتاب پر پابندی ہے اور تقریباً دس برسوں تک اُنھیں روپوشی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور تھے۔
منبع: بی بی سی نیوز
The post سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ: وینٹی لیٹر پر منتقل appeared first on شفقنا اردو نیوز.
