افغان دارالحکومت کابل کی مسجد میں دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں21 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
خبر کے مطابق، مسجد میں دھماکا نماز کی ادائیگی کے دوران ہوا۔
ترجمان کابل پولیس خالد زادران کا کہنا ہے کہ دھماکے میں متعدد افراد کی اموات کا خدشہ ہے، یہ دھماکہ مسجد کےاندر ہوا ہے، دھماکے میں ہونے والی اموات اور زخمیوں کی تعداد ابھی معلوم نہیں، دھماکے کی شدت سے قریب کی عمارتوں کوبھی نقصان پہنچا ہے۔
دھماکہ کابل کے علاقے پی ڈی 17 میں ہوا ہے جبکہ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک 27 افراد کو اسپتال لایا گیا ہے جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں تاہم کسی ہلاکت کی اب تک تصدیق نہیں کی گئی۔
سوشل میڈیا پر افغان مبلغ امیر محمد کابلی کی تصاویر بھی زیر گردش ہیں جن میں دعویٰ کیا جارہا ہےکہ جاں بحق ہونے والوں میں وہ بھی شامل ہیں۔
اب تک کسی گروپ نے حملےکی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں متعدد ہلاکتوں کا خدشہ ہے تاہم انہوں نے حتمی تعداد نہیں بتائی۔
ترکی نے اس حملے کی مذمت کرتےہوئے ایک تعزیتی پیغام بھی جاری کیا ہے۔
