ترک صدارتی شعبہ اطلاعات نے لندن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت "عالمی توازن اور اس کی تعمیر نو” کے زیر عنوان ایک پینل کا انعقاد کیا۔
پینل میں ترک اور برطانوی ماہرین نے بھی شرکت کی ۔
وقف برائے سیاسی و اقتصادی تحقیق واشنگٹن ڈی سی کے ڈاریکٹر ڈاکٹر قلیچ بوغرا قنات نے پینل سے خطاب میں کہا کہ 6 ماہ قبل اقوام متحدہ میں اصلاحات کے حوالے سے منصوبہ شروع کیا گیاہے جس کے لیے ایک عالمی لائحہ عمل مرتب کرنے کےلیے ماہرین مصروف ہیں۔
استنبول کی آلتن باش یونیورسٹی کے ریکٹر اور ایوان صدر کی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر چاغری ارہان نے روس۔یوکرین جنگ کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ سلامتی کونسل میں ویٹو کے حقدار رکن ملک کا اس جنگ میں شامل ہونا عالمی بحران کے حل میں معاونت کے امکان سے عاری ہے۔
مصنف، تجزیہ کار اور سابقہ پروفیسر پال ای ایم رینالڈز نے بھی اس موقع پر کہا کہ فلسطین کے معاملے کی طرح اقوام متحدہ کا وجود اپنی پے درپے ناکامیوں کی وجہ سے فوری اصلاحاتی ضرورت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔
فارورڈ تھنکنگ نامی ایک نظریاتی ادارے کے بانی اولیور میک ٹرنان نے بھی کہا کہ عالمی نمائندگی کو اگر موثر بنانا ہے تو اقوام متحدہ کو اصلاحات کرنا ہونگی ۔
