English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈاکٹر مہرب معز اعوان مرد ہیں یا خواجہ سرا؟

القمر

ڈاکٹر مہرب معز اعوان پاکستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق کی علمبردار اور خاتون ٹرانس جینڈر ہیں جن کے بارے میں یہ تنازعہ کھڑا ہوگیا یے کہ وہ مرد ہیں یا خواجہ سرا؟

ڈاکٹر مہرب معز اعوان نے خیبر یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا اور فل برائٹ حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پبلک ہیلتھ میں ماسٹرز بھی کیا۔ بعد ازاں وہ پاکستان آگئیں اور 2012 میں ٹرانس جینڈرز میں ایچ آئی وی کے حوالے سے کام شروع کیا، آجکل وہ ٹرانس جینڈرز کیلئے بننے والے قوانین، ان پر ہونے والے تشدد اور سوشل انٹیگریشن پر کام کر رہی ہیں۔

وہ مخنث افراد سمیت مختلف متنازع جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کے حقوق سے متعلق بات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ مختلف فلاحی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ خواجہ سرا کمیونٹی کے فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کرنے کے علاوہ سوشل میڈیا پر تشہیری مہم بھی چلاتی دکھائی دیتی ہیں۔

ڈاکٹر مہرب معز اعوان اس وقت خبروں کی زینت بنیں جب فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے دعویٰ کیا ہے کہ خود کو خواجہ سرا قرار دینے والے سماجی رہنما ڈاکٹر مہبر معز اعوان خاتون کے روپ میں مرد ہیں۔ ماریہ بی نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں مہرب معز اعوان کے حوالے سے متعدد اسٹوریز شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں خواجہ سرا یا مخنث افراد میں شامل کرنا دھوکہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی ایک اسٹوری میں لکھا کہ پاکستانی عوام کو خواجہ سرا افراد سے ہمدردی ہے مگر مہرب معز اعوان مخنث کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔ ماریہ بی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص نے خود کو مرد ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون بنا کر رکھا ہوا ہے اور ہمارے بچوں کے لیے صنفی مسائل اور فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

مہرب معز اعوان اور ماریہ بی کے حوالے سے مذکورہ اسٹوریز اس وقت کیں جب کہ خواجہ سرا کارکن نے بتایا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل اسکول لاہور کی انتظامیہ نے انہیں وہاں ہونے والے ’ٹیڈ ٹاک‘ شو میں آنے سے روک دیا، جس پر انہوں نے سلسلہ وار ٹوئٹس کیں۔ مہرب معز اعوان نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں لکھا کہ انہیں اسکول انتطامیہ نے بتایا کہ بچوں کے والدین نہیں چاہتے کہ مخنث افراد ان کے بچوں کے سامنے آکر خطاب کریں، اس لیے انہیں شو میں آنے سے روک دیا گیا۔ انہوں نے ایسا کرنے پر اسکول انتظامیہ پر تنقید کی اور ساتھ ہی ’ٹیڈ ٹاک‘ شو میں بطور مہمان شرکت کرنے والے دیگر افراد سے بھی مطالب کیا کہ وہ ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر شو کا بائیکاٹ کریں۔ مہرب معز اعوان کی ٹوئٹس اور انسٹاگرام پوسٹ پر بھی کئی لوگوں نے کمنٹس کرتے ہوئے ان سے اختلاف کیا اور لکھا کہ وہ درست معنوں میں مخنث شخص نہیں ہیں، وہ ملک میں عریانیت و فحاشت پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے شخص ہیں جن کی اصل شناخت کچھ اور ہے۔

مہرب معز اعوان کی جانب سے پوسٹ کیے جانے کے بعد ہی ماریہ بی نے ان کے حوالے سے انسٹاگرام اسٹوریز شیئر کیں، جن کے اسکرین شاٹ وائرل ہوگئے اور ٹوئٹر پر فیشن ڈیزائنر کا نام ٹاپ ٹرینڈ بن گیا اور کچھ لوگوں نے ان کے خیالات سے اتفاق بھی کیا جبکہ کچھ لوگوں نے مہرب معز اعوان کے حق میں بھی ٹویٹ داغے۔

دوسری جانب ماریہ بی نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ’انٹرنیشنل اسکول آف لاہور (آئی ایس ایل) جہاں ان کے بچے بھی پڑھتے ہیں، نے مہرب معز اعوان کو ’ٹیڈ ٹاک‘ شو میں بطور مہمان مدعو کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے بھی مذکورہ اسکول میں پڑھتے ہیں اور وہ بطور والدہ وہ کبھی نہیں چاہیں گی کہ غلط لوگ ان کے بچوں کے سامنے خطاب کریں۔ ماریہ بی نے ایک اسٹوری میں لکھا کہ انہوں نے ایک بار مہرب معز اعوان کی انسٹاگرام پر پانچ منٹ تک ویڈیو دیکھی، جس میں انہوں نے انتہائی بیہودہ گفتگو کی اور شراب نوشی سمیت دیگر ممنوعہ چیزوں کی تشہیر کی۔

فیشن ڈیزائنر نے لکھا کہ اب ان جیسے لوگ ہمارے بچوں کے لیے رول ماڈل بنیں گے اور وہ ان کے سامنے آکر تقریریں کریں گے؟ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ مہرب معز اعوان کے پاس کس طرح کا اعزاز ہے، انہیں کس ادارے نے کون سا ایوارڈ دے رکھا ہے؟

ایک اسٹوری میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان کے لوگ درست معنوں میں ’ٹرانس جینڈر‘ لفظ کی اصطلاح کو نہیں سمجھتے، یہاں تک کہ اس کی اصطلاح قانون ساز بھی نہیں سمجھتے اور سب لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ مخنث یا خواجہ سرا افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

نیا دور میڈیا نے ڈاکٹر مہرب معز اعوان کا اس حوالے موقف لیا تو انہیں نے بتایا کہ میرے گھر، خاندان اور تمام دوستوں کو شروع دن سے پتہ ہے کہ میں خواجہ سرا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ یہ معاشرہ ہم سے چاہتا کیا ہے۔ جب میں ایک مرد کے طور پر زندہ رہ رہی تھی تو میرا مذاق اڑا کر کہتے تھے کہ یہ ‘کھسرا’ ہے، اور اب میں نے جب قبول کرلیا کہ میں کھسرا ہوں تو اب بھی زندہ نہیں رہنے دیتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقوق دینے سے پہلے ہر کسی کی شلوار کے پیچھے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر میں ماریہ بی پر الزام لگا دوں اور کہوں کہ یہ عورت تو ہے ہی نہیں تو کیا لوگ تب بھی اس بات پر یقین کریں گے؟

 

 

A post shared by Mehrub Moiz Awan (@unrelentlesslyyours)

ڈاکٹر مہرب کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ والدین اور انتظامیہ کی ملی بھگت ہے. ہماری اشرافیہ ہمیشہ یہی کام کرتی ہے، اخلاقیات کی بنیاد پر کچھ لوگوں کو سنسر کرتی ہے کیونکہ وہ امیر ہیں اور ان کے پاس پلیٹ فارم ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کی بات سنی جائے گی، کس کی بات نہیں سنی جائے گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ماریہ بی انہیں ہرگز نشانہ نہ بناتی اگر وہ سڑک پر بھیک مانگ رہی ہوتیں، یا کسی جگہ ڈانس کر رہی ہوتی،میں ایک خودار خواجہ سرا ہوں جس نے کبھی اپنا رونا نہیں روہا، انہیں تکلیف اس لئے ہوئی کہ ایک خواجہ سرا ان کی کمیونٹی میں کیسے بیٹھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایلیٹ مینٹیلٹیی ہے جو خواجہ سرا کو انسان نہیں سمجھتے، انہوں نے کہا کہ گاؤں دیہات میں لوگ اگر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں تو عزت بھی دیتے ہیں، کراچی میں جہاں میں رہتی تھی وہاں کے ہوٹل والے مجھے باجی اور بچے خالہ کہتے تھے جبکہ ایلیٹ اپنے بچوں کو خواجہ سرا کے قریب نہیں جانے دیتے،

ڈاکٹر مہرب معز اعوان نے مزید کہا کہ جنس کو ہم نہیں بیچتے ماریہ بی جیسے فیشن ڈیزائنر بیچتے ہیں۔ اور اگر ماریہ بی کہتی ہے کہ اللہ کو سب نے مکمل پیدا کیا تو ماریہ بی جیسی ایلیٹ خواتین لاکھوں روپے کے میک اپ اپنے منہ پر کیوں لگاتی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے خواجہ سرا کو کیا حقوق دینے ہیں جو ہر کسی کے کپڑوں کے نیچے جھانکتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجھ پر الزام لگانے والے کوئی ایک انٹر سیکس بندہ لا کر دکھائیں۔ یہ کسی ایک کو نہیں دکھا سکتے۔

ڈاکٹر مہرب معز اعوان نے کہا کہ یہ سرمایہ دار سماج ہے اور یہ ہر چیز کو کمیوڈیٹی کی طرح دیکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں حقوق تب دیتے ہیں جب ہم سڑک پر بھیک مانگیں، انکی بچوں کی پیدائش اور شادیوں پر جا کر مجرے کریں۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ آپ نے مورو کو دیئے گئے انٹرویو میں آپ نے کہا تھا کہ آپ پورن سیلر تھیں اور اپنے دوستوں کو پورن دکھاتی تھیں، اس پر رد عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پورے انٹرویو میں 1 منٹ کا کلپ نکال کر پھینک دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس شو میں اس الزام کا ذکر کیا جارہا تھا کہ کہ تمام ٹرانس ایتھلیٹ مرد ہیں، اس شو میں میں ماریا شراپوا اور سرینا ویلیمز پر بات کر رہی تھی، اس وقت لوگ سرینا ویلیمز کو ان کی رنگت کی وجہ سے بندر کہتے تھے جبکہ ماریا شراپوا کی برہنہ تصاویر دیکھتے تھے۔ اس فلو میں میں نے یہ بات کی کہ میرے گھر میں انٹرنیٹ تھا تو میرے بہت سے دوست مجھے کہتے تھے کہ انٹرنیٹ سے اس کی برہنہ وڈیو ڈاؤنلوڈ کر کے لاؤ۔ ڈاکٹر مہرب معز اعوان نے کہا کہ پاکستان پورن دیکھنے میں نمبر ون ہے، مگر سماج میں بہتری لانے کیلئے آپ اس اصطلاح کو بھی استعمال نہیں کرسکتے، یہ سب منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟

آخر میں انہوں نے کہا کہ میں ماریہ بی کے خلاف لیگل ایکشن لوں گی، اور چپ نہیں بیٹھوں گی، اگر میرے کپڑوں کے نیچے والے اعضاء پر بات کی گئی ہے، تو میں بھی اب کروں گی اور اس ایلیٹ کو بے نقاب کروں گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے لیگل نوٹس تیار ہو چکا ہے جس میں ماریہ بی اور اسلام آباد انٹرنیشنل اسکول لاہور کو فریق بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ سرا کمیونٹی میرے ساتھ ہے اور میری سپورٹ میں انہوں نے ویڈیوز بھی لگائی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے