حیدرآباد:جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی ترجمان اور یوسی 38پریٹ آباد ٹاؤن سے چیئرمین کے امیدوار ڈاکٹر محمد یونس دانش نے یوسی38کے تمام وارڈز سے ان کے بینز اتار نے پوسٹر پھاڑنے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈے اختیار کر کے ایک لسانی جماعت شہر کے امن کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔
جس کا اعلیٰ احکام الیکشن کمیشن آف پاکستان ،صوبائی الیکشن کمیشن اور ضلعی الیکشن کمیشن ،ریٹرنگ آفیسر ،کمشنر حیدرآباد ،ڈپٹی کمشنر حیدرآباد ، ڈی آئی جی حیدرآباد ،ایس ایس پی حیدرآباد،ڈی ایس پی پھلیلی،SHOپنیاری ،آئی ایس آئی ،ایم آئی ڈی آئی بی ،آئی بی ،اسپیشل برانچ کے ذمہ داران کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔
انہوں نے متعلقہ احکام کو ایک برقعہ روانہ کیا ہے جس میں حسینی چوک،کمیلہ روڈ ،قلندری چوک ،انصاری ہسپتال ،محمدی چوک ،المشرق چوک،قباء مسجد روڈ،چاند چوک ،مریم مسجد ،چمڑامنڈی ،چودھری چوک سے رات کی تاریکی میں بینز اتار کے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے۔
کہ بینزاتار کراور دیواروں سے پوسٹر نوچے کر عوام کے دلوں سے ان کی محبت کوختم نہیں کرسکتے یوسی کے عوام ماضی میں بھی جمعیت علماء پاکستان سے محبت کرتے تھے اور آج بھی ان کی محبت قائم ہے مذکورہ مذموم کاروبائی کے باعث جے یو پی کے کارکنان ہمدرداران اور ووٹرز میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔
جس سے پھلیلی پریٹ آباد کے عوام میں سخت تناؤ کی کیفیت ہے جس کے باعث کسی وقت بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔
لہذامتعلقہ اداروں کو اس کا فوری اور سخت نوٹس لینا چاہئے انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی سپریم کورٹ نے 28اگست کو پولنگ کا اعلان کیا ایک لسانی جماعت جو الیکشن کے ملتوی ہونے پر خوشی کے شادیانے بجا رہی تھی اس کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور اس نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور پھلیلی پریٹ آباد کی عوام کو یرغمال بنانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرنا شروع کردئیے ہیں ،ماضی کی طرح پھر سے دھونس دھمکی کے ذریعے حق کی آواز کودبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ہم نے ماضی میں بھی اس دھشت گردی جماعت کے چہرے سے نقاب اتار پھینکا تھا اب بھی اس جماعت کے سیاہ کرتوتوں کو بے نقاب کرتے رہیں گے چہرے بدل کر عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عوام جان چکے ہیں۔
وہ 28اگست کو اس مافیا جماعت کے ہر حربے کو ناکام بناتے ہوئے چابی کے نشان پر مہر لگا کر اپنی اور شہر حیدرآباد کی قسمت کا تالا کھولیں گے۔
