English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

نیویارک کے بعد لندن اور یروشلم میں بھی پولیو وائرس کے کیسز رپورٹ

القمر

2022 میں پولیو وائرس کو نیویارک، لندن اور یروشلم میں دریافت کیا گیا۔

اسی طرح فروری میں یروشلم جبکہ جون میں نیویارک میں پولیو وائرس کے کیسز سامنے آئے۔

پاکستان اور افغانستان سے باہر ایسے ممالک جہاں پولیو کے مرض کے خاتمے کو کئی سال ہوچکے ہیں، وہاں اس وائرس کی دریافت متعدد حلقوں کے لیے حیران کن ثابت ہوئی۔

مختلف رپورٹس سے عندیہ ملا ہے کہ ان خطوں میں یہ وائرس کچھ ممالک میں منہ کے ذریعے دی جانے والی پولیو ویکسین کے ذریعے پہنچا۔

ان علاقوں کے نکاسی آب کے نمونوں سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ وائرس زیادہ بڑے پیمانے پر گردش کررہا ہے۔

ویکسین میں پائے جانے والا یہ پولیو وائرس افریقا اور ایشیا میں زیادہ عام ہے اور ان خطوں میں ہی منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین کو استعمال کیا جارہا ہے۔

ویکسین میں زندہ مگر کمزور وائرس کو استعمال کیا جاتا ہے جو کئی بار تبدیل ہوکر زیادہ خطرناک بن جاتا ہے اور اعصابی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا اور برطانیہ میں انجیکشن کے ذریعے ویکسین کا استعمال کرایا جاتا ہے جس میں ناکارہ وائرس موجود ہوتا ہے، جو اعصابی نظام کو متاثر ہونے سے بچاتا ہے، مگر یہ منہ کے ذریعے دی جانے والی ویکسین جتنا مؤثر طریقہ کار نہیں۔

پولیو کا کوئی علاج موجود نہیں اور اس کے نتیجے میں متاثرہ فرد کو زندگی بھر کی معذوری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

مگر 1950 کی دہائی میں ویکسین تیار ہونے کے بعد پولیو کی روک تھام آسان ہوگئی اور دنیا بھر میں یہ مرض لگ بھگ ختم ہوچکا ہے، بس افغانستان اور پاکستان ایسے ممالک ہیں جہاں اب بھی اس کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

اس سال افریقی ممالک ملاوی اور موزمبیق میں بیرون ملک سے آنے والے افراد میں پولیو کیسز کی تصدیق ہوئی جو 1990 کی دہائی کے بعد اولین کیسز تھے۔

پولیو وائرس کی 2 بنیادی اقسام ہے جن میں سے ایک وائلڈ ٹائپ ہے جبکہ دوسری قسم ویکسین میں موجود وائرس ہے۔

اسی دوسری قسم کی تصدیق لندن اور نیویارک کے نکاسی آب کے نمونوں میں ہوئی جبکہ اسی سے ملتا جلتا وائرس یروشلم میں دریافت ہوا۔

اب طبی جریدے نیچر سے بات کرتے ہوئے ہوئے ماہرین نے وائرس کے پھیلاؤ اور روک تھام کے حوالے سے اپنی رائے دی۔

امریکا کی ایموری یونیورسٹی کے وبائی امراض کے ماہر والٹر Orenstein نے کہا کہ یہ وائرس ویکسینیشن نہ کرانے والوں کو دریافت کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے اور ایسے افراد میں سنگین بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک شہر کے ساتھ ساتھ یہ وائرس 2 کائونٹیز میں بھی دریافت ہوا یہ پھیلاؤ تشویشناک ہے۔

دوسری جانب امپرئیل کالج لندن کے وبائی امراض کے ماہر نکولس گریزلی نے کہا کہ ایسا نظر آتا ہے کہ لندن میں یہ وائرس شمالی اور مشرقی علاقوں میں موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ کی وبا سے پیدا ہونے والے خلا کو بھرنے کے لیے ویکسینیشن کی کوششوں کو بڑھا کر امریکا، برطانیہ اور اسرائیل میں بیماری کی روک تھام کرنی چاہیے، مگر انجیکشن والی ویکسین سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر 6 ماہ بعد بھی نکاسی آب کے نمونوں میں وائرس کے پھیلاؤ کا عندیہ ملا تو دیگر آپشنز پر غور کرنا ضروری ہوگا۔

مثال کے طور پر منہ کے ذریعے دی جانے والی ایک نئی ویکسین جس کو عالمی ادارہ صحت نے ایمرجنسی استعمال کے لیے منظوری دی ہے۔

مگر اس ویکسین کی بڑے پیمانے پر انسانوں پر آزمائش نہیں ہوئی جبکہ امریکا یا برطانیہ میں اس کے استعمال کی منظوری نہیں دی گئی۔

منبع: جیو نیوز

The post نیویارک کے بعد لندن اور یروشلم میں بھی پولیو وائرس کے کیسز رپورٹ appeared first on شفقنا اردو نیوز.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے