پاکستان میں متعدد انسداد پولیو مہم ور دعوؤں کے باوجود پولیو کا خاتمہ ممکن نہیں ہو پا رہ ہے
اب ایک اور کیس سامنے آگی روان برس متاثرہ بچوں کی تعداد 15ہو گئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق نیا کیس شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان کا ہے جہاں 17 مہینے
کے بچہ میں پولیو کے وئرس ظاہر ہوئے ہیں۔
اس سال لکی مروت سے بھی پولیو کا کیس سامنے آچکا ہے اسی طرح پنجاب اور اسلام آباد کے
ماحولیاتی نمونوں میں بھی پولیو وائرس پایا گیا ہے۔
سال رواں کے دوران سامنے آنے والے بیشتر کیسز شمالی وزیرستان کے ہیں. ان علاقوں میں
انسداد پولیو مہم کی مخالفت کی جاتی ہے اور پولیو ٹیموں پر حملے کیے جاتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان سے بحیثیت مجموعی رواں برس 16 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں
سے ایک کیس جنوری میں افغانستان سے رپورٹ ہوا تھا۔
وزارت صحت کے مطابق شدید بارشوں اور سیلاب کے باوجود پولیو پروگرام نے جہاں تک ممکن
ہوا پولیو ویکسینیشن کی مہم جاری رکھی ہے۔ یہ مہم 22 اگست سے جاری ہے اور پولیو ورکرز
مشکل حالت کے باوجود بچوں تک ویکسین کی رسائی ممکن بنا رہے ہیں۔
