قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر محمد حفیظ نے فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی کو گھٹنے کی انجری کے علاج کے لیے لندن بھیجنے میں تاخیر پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس عمل کو مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔
ایشیا کپ کے حوالے سے سرکاری ٹی وی کی خصوصی نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے محمد حفیظ نے گہرے دکھ کا اظہار کیا اور کہا ‘شاہیں صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا کا قیمتی اثاثہ ہے، جس طرح شاہین کا معاملہ ہینڈل کیا گیا اس پر مجھے افسوس ہے، اسے دنیا بھر میں لوگ کھیلتا دیکھنا چاہتے ہیں’۔
محمد حفیظ نے کہا ‘ فاسٹ بولر کے معاملے میں 6 سے 8 ہفتے ضائع کیے گئے، انھیں پہلے ہی انگلینڈ بھیج دینا چاہیے تھا، ہمارے ملک میں انجری کی تصدیق اور ری ہیب دونوں ہی درست انداز میں نہیں ہوتے’۔
My views on @iShaheenAfridi injury. May he get well soon 🤲🏼 pic.twitter.com/HR18kuN8f9
— Mohammad Hafeez (@MHafeez22) August 30, 2022
ان کا کہنا تھا کہ حقیقت تو یہ ہے کہ شاہین آفریدی کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جانا بذات خود بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم پاکستان میں طبی سہولیات کو اپ گریڈ کرنے میں تاحال ناکام رہے ہیں۔
محمد حفیظ کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شاہین آفریدی سری لنکا کے خلاف گال میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران فیلڈنگ کرتے ہوئے دائیں گھٹنے کی انجری کا شکار ہونے کے بعد ایشیا کپ سے باہر ہوچکے ہیں جو کہ قومی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا۔
