کراچی: امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے گڈاپ کے سیلاب زدگان کے لیے جماعت اسلامی و الخدمت کے تحت قائم امدادی کیمپوں اور خیمہ بستی کا دورہ کیا۔
حافظ نعیم الرحمن عثمان ٹکری گوٹھ ، خمیسو گوٹھ ، کلوگوٹھ اور میر خان گوندر گوٹھ سمیت دیگر علاقوں میں گئے،عارضی گھروں میں مقیم متاثرین سے ان کے گھروں میں جا کر ان کے حالات اور مسائل معلوم کیے ان میں خواتین ، بزرگ اور بچے بھی شامل تھے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور متاثرین کو رہائش ، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی سہولیات فراہم کی جانے کے بارے میں آگاہی حاصل کی ، امدادی سرگرمیوں میں مصروف رضاروں کو خراج تحسین پیش کیا ،انہوں نے متاثرین کو عارضی گھروں کے مالکانہ حقوق کے کارڈزبھی تقسیم کیے ۔
جماعت اسلامی کی جانب سے گڈاپ کے مقامی متاثرین سمیت نواب شاہ ، بینظیر آباد اور دوڑ سے آئے ہوئے متاثرین کو رہائش کے لیے عارضی گھر اور خیمے دیئے گئے ہیں اور الخدمت کچن کے ذریعے کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔
علاوہ ازیں الخدمت اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے تعاون سے طبی کیمپ بھی موجود ہیں جس میں ماہر مردو خواتین ڈاکٹرز علاج معالجے کی سہولت اور ادویات فراہم کر رہے ہیں ۔
حافظ نعیم الرحمن سیلابی ریلے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کے گھر بھی گئے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کی ۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی 15سال سے سندھ میں حکومت کررہی ہے ، بتایا جائے لاکھوں اربوں روپے کا بجٹ کہاں خرچ کیا جاتا ہے ؟300ارب تعلیم کے لیے ،ہزاروں ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ اندرون سندھ میں کہاں خرچ کیے جاتے ہیں؟عوام کے لیے مختص بجٹ کے پیسوں کو حکمرانوں کی جیبوں سے نکالنا بھی بہت ضروری اور بڑا کام ہے ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ نااہل اور کرپٹ حکمرانوں سے جان چھڑانے کے لیے اپنا حق چھین کر حاصل کرنا ہوگا ۔عوام کا حق ہے کہ انہیں بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں کیوںکہ عوام ٹیکس جمع کرواتے ہیں۔ اندرون سندھ میں بارشوں کے بعد سندھ حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ جماعت اسلامی اور الخدمت کے رضاکار وں نے متاثرین کے لیے عارضی رہائش گاہیں بنائی ہیں،گڈاپ میں 8فٹ کے سیلابی ریلے نے مقامی لوگوں کو بری طرح متاثر کیا ۔ایک خاتون بھی اس ریلے میں بہہ گئیں اور بڑی تعداد میں مویشی بھی سیلاب کے پانی میں بہہ گئے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ صوبے میں PDMAموجود ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی قبل از وقت آگہی گا پیغام نہیں دیا گیا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے پیشگی پیغام دے دیا جاتا تو آج اتنا زیادہ نقصان نہ ہوتا ۔
