روزنامہ خبر ترک: "یورپی حقوق انسانی کی عدالت انصاف سے کام نہیں لیتی، صدر ایردوان”
صدر رجب طیب ایردوان نے یورپی حقوق انسانی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف سخت ردِ عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہر کوئی دیکھے گا کہ ترکیہ ایسا ملک نہیں ہے جہاں تاریک حلقوں کی رہنمائی میں کسی سمت کا تعین کیا جاتا ہے ، ایردوان نے کہا، "یورپی عدالت اپنے فیصلوں میں منصفانہ نہیں ہے، یہ ایک سیاسی ادارہ ہے۔ جب ترکیہ کا معاملہ آتا ہے تو یہ سیاسی فیصلہ کرتا ہے لیکن دوسری طرف جب فرانس اور جرمنی کی بات آتی ہے تو اس کے فیصلے کوئی اور رخ اختیار کرلیتے ہیں۔”
روزنامہ وطن :”بلندیوں کی جانب گامزن ترکیہ "
صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے کٹھن سلسلے سے گزرنے والے اس دور میں ہم عظیم اور طاقتور ترکیہ کی نشاط کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘تعلیمی میدان سے لیکر حفظان ِ صحت تک، صنعت سے لیکر زراعت تک غرضیکہ ہر شعبے میں ہم تمام تر ضروریات کو پورا کرنے میں خود کفیل ہیں ، ہم دنیا کے چاروں گوشوں میں اپنے تعلقات اور فوجی طاقت کے ذریعے اپنے وجود کو منوا رہے ہیں۔ ‘
روزنامہ ینی شفق :” ترکیہ۔ یورپی یونین قربت ششدر کن نہیں ہو گی، آلتون”
ایوان صدر کے محکمہ اطلاعات کے صدر فخرالتین آلتون نے واضح کیا ہے کہ جس طرح ترکیہ کو یورپی یونین کی رکنیت سے فوائد پہنچیں گے اسی طرح یورپی یونین کے لیے بھی ترکیہ کی رکنیت سے حاصل ہو سکنے والے فوائد موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری دنیا اسوقت جس ڈگر پر چل رہی ہے اس سے ترکیہ اور یورپی یونین کے درمیان قربت پیدا ہو رہی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ سلسلہ رکنیت مذاکرات میں از سر نو تیزی ایک غیر متوقع بات نہیں ہو گی۔
روزنامہ حریت :”قابل ِ تجدید توانائی کے شعبے میں ریکارڈ”
قابل تجدید توانائی کے شعبے میں ترکیہ نے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ ماہ جولائی میں ترکیہ میں 28 ارب 491 ملین کلو واٹ ہاور بجلی پیدا کی گئی۔ اس ماہ میں ملک میں 2 ارب 7 ملین کلو واٹ ہاور بجلی شمسی توانائی سے اور 4 ارب 237 ملین کلو واٹ ہاور بجلی پن چکی توانائی سے حاصل کی گئی ہے۔
رومانیہ ترکیہ کے جنگی میدانوں میں افسانوی ماہیت اختیار کرنے والے بائراکتار ٹی بی ٹو مسلح ڈراونز کو خریدنے کا طلبگار ہے۔ رومانوی پارلیمنٹ کی منظوری ملنے پر 18 عدد ڈراونز کی خرید کے لیے ترک فرم کے ساتھ بات چیت شروع ہو سکے گی۔
